سعودی عرب : غیر ملکی کارکن کی آزادانہ منتقلی کے لیے مطلوب شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنان کی آزادانہ منتقلی کا نیا قانون آج اتوار کے روز سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے افرادی قوت اور سماجی بہبود کی وزارت نے چند شرائط کا تعین کیا ہے۔ ان کے پورا ہونے کی صورت میں نجی سیکٹر میں غیر ملکی کارکن کسی دوسرے آجر کے پاس منتقل ہو سکے گا۔

مذکورہ شرائط درج ذیل ہیں :

1 ۔ غیر ملکی کارکن مصدقہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد آجر کی اجازت کے بغیر دوسرے آجر کے پاس منتقل ہو سکتا ہے۔

2 ۔ غیر ملکی کارکن کو مسلسل تین ماہ کی اجرت ادا نہ کی گئی ہو۔

3 ۔ اگر آجر سفر کرنے ، جیل جانے ، فوت ہو جانے یا کسی اور وجہ سے غائب ہو گیا ہو۔

4 ۔ اگر کارکن کا ورک پرمٹ یا اقامہ ختم ہو چکا ہو۔

5 ۔ اگر کارکن نے اپنے آجر کے خلاف "تجارتی امور پر پردہ" ڈالنے کی رپورٹ کی ہو بشرط یہ ک کارکن خود اس خلاف ورزی میں شریک نہ ہو۔

6 ۔ انسانی تجارت ثابت ہونے کی صورت میں۔

افرادی قوت اور سماجی بہبود کی سعودی وزارت نے نومبر 2020ء میں غیر ملکی کارکن اور آجر کے درمیان معاہدے کے تعلق کو بہتر بنانے کا منصوبہ متعارف کرایا
افرادی قوت اور سماجی بہبود کی سعودی وزارت نے نومبر 2020ء میں غیر ملکی کارکن اور آجر کے درمیان معاہدے کے تعلق کو بہتر بنانے کا منصوبہ متعارف کرایا

7 ۔ کارکن اور موجودہ آجر کے درمیان "لیبر تنازع" ہونے کی صورت میں جب کہ آجر یا اس کا نمائندہ عدالت میں دو سماعتوں میں غیر حضر رہے۔

افرادی قوت اور سماجی بہبود کی سعودی وزارت نے نومبر 2020ء میں غیر ملکی کارکن اور آجر کے درمیان معاہدے کے تعلق کو بہتر بنانے کا منصوبہ متعارف کرایا تھا۔ اس کے تحت تین مرکزی خدمات پیش کی گئی ہیں جن میں ملازمت کی منتقلی، خروج اور واپسی کا طریقہ کار اور حتمی خروج کا طریقہ کار بہتر بنانا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں