.

برطانیہ کی شامی وزیرخارجہ سمیت صدربشارالاسد کے 6 قریبی ساتھیوں پر پابندیاں عاید 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ نے شامی صدربشارالاسد کے چھے قریبی ساتھیوں پر پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان میں شامی وزیر خارجہ فیصل مقداد بھی شامل ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ ڈومینک راب نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’اسد نظام نے گذشتہ ایک عشرے سے شامی عوام کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ان کا محض قصور یہ تھا کہ وہ پُرامن احتجاجی مظاہروں میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اسد نظام کے مزید چھے افراد کو شہریوں کے خلاف تھوک کے حساب سے حملوں پر قابل احتساب ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ ان شہریوں کا تحفظ ان شامی عہدے داروں کی ذمے داری تھی۔‘‘

برطانیہ نے جن شامی عہدے داروں پر پابندیاں عاید کی ہیں،ان میں وزیرخارجہ فیصل مقداد، صدر بشارالاسد کی مشیر لونا الشبل ، ان کے مالی معاون یاسرابراہیم ،کاروباری شخصیت محمد براء القطریجی ،شامی ری پبلکن گارڈ کے کمانڈر ملک علیا اور آرمی میجر زید صلاح شامل ہیں۔

شام میں گذشتہ ایک عشرے سے خانہ جنگی جاری ہے۔اس کا آغاز وسط مارچ 2011ء میں پُرامن احتجاجی مظاہروں سے ہوا تھا۔شامی فوج نے سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے پُرامن مظاہرین کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا اور سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا یا انھیں اغوا کرکے ہمیشہ کے لیے لاپتا کردیا تھا۔

تب شامی فوج کی سفاکانہ کارروائیوں کے خلاف مختلف باغی گروپوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔ ان کی حمایت ہزاروں فوجیوں اور افسروں نے بھی شامی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کردی تھی۔اب تک شامی فوج کی جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ان میں کی کثیر تعداد ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے یا وہ نقل مکانی کرکے مغربی ممالک میں جاچکے ہیں۔