.

ترکی اپنے اقدامات سے معمول کے تعلقات کی بنیاد فراہم کرے: مصری وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کو مصر کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے اس کے اصولوں اور اہداف کے مطابق اقدامات کرنے چاہییں۔

یہ بات مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے اتوار کو پارلیمان میں ایک بیان میں کہی ہے۔انھوں نے گذشتہ برسوں کی کشیدگی کے بعد قاہرہ اور انقرہ کے درمیان روابط کی تصدیق کی ہے،البتہ کہا ہے کہ ان کے درمیان محدود پیمانے پرڈائیلاگ ہورہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’معمول کے سفارتی فریم ورک سے باہر کوئی ابلاغ نہیں ہورہا ہے۔ترکی کو مصری اصولوں اور مقاصد کے مطابق اقدامات کرنا ہوں گے اور پھرمعمول کے تعلقات استوار کرنے کے لیے اس کو بنیادی کام کرنا چاہیے۔‘‘

ترکی کے بعض اعلیٰ عہدے داروں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی روابط بحال ہوگئے ہیں اورانقرہ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بھی ان روابط کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ ’’روابط اعلیٰ سطح پر تو نہیں ہوئے بلکہ اعلیٰ سے نچلی سطح پر استوار ہوئے ہیں۔‘‘

مصر کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ترکی نے تعاون کے فروغ کے لیے ایک اجلاس کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے درمیان 2013ء میں الاخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمدمرسی کی حکومت کی معزولی کے بعد سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔ترک صدر طیب ایردوآن کی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) مصرکی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی اتحادی اور مددگاررہی ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی حکومت نے الاخوان المسلمون کوصدر مرسی کی معزولی کے بعد دہشت گرد قراردے دیا تھا اور اس کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کردی تھی۔مصری سکیورٹی فورسز نے الاخوان کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔ان مخالفانہ کارروائیوں کے بعد الاخوان کے بہت سے لیڈر اور کارکنان ملک سے نقل مکانی کرکے ترکی چلے گئے تھے اور انھوں نے وہاں تب سے سیاسی پناہ لے رکھی ہے۔

مصر اور ترکی کے درمیان آبی حدود اور آف شور قدرتی وسائل پر تنازعات کے علاوہ لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے بارے میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ دونوں ملک لیبیا میں متحارب گروپوں کی حمایت کررہے ہیں۔مصر لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر اور ان کے زیر قیادت لیبی قومی فوج کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت کا حامی ہے۔

سامح شکری نے قانون سازوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ قطر کی جانب سے مثبت پیغامات آئے ہیں اور ان سے یہ اشارہ ملا ہے کہ وہ سعودی عرب کے شہر العلاء میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں طے شدہ فیصلے کے بعد دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانا چاہتا ہے۔

مصر اور اس کے تین خلیجی اتحادیوں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے العلاء میں قطر کے ساتھ سفارتی اور کاروباری تعلقات کی بحالی سے اتفاق کیا تھا۔ان چاروں ممالک نے جون 2017ء میں قطر سے ہرطرح کے تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اس پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عاید کیا تھا جبکہ قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔