.

شام: ایران کے ہاتھ بشار کے مخالفین کے گھروں تک جا پہنچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں بالخصوص دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع علاقوں کے ضمن میں المیادین سے لے کر شام عراق سرحد پر تزویراتی اہمیت کے حامل شہر البوکمال تک اپنے وجود کو مضبوط بنانے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔

ایران کی جانب سے شام میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

تہران کبھی اپنے پاؤں جمانے کے لیے دریائے فرات کے مغرب میں دیر الزور کے دیہی علاقوں میں غربت کے مارے نوجوانوں کو بھرتی کرنے پر کام کرتا ہے اور کبھی شام میں اپنے علاقوں سے ہجرت کر جانے والے شہریوں کی جائیداد خریدنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

ان ہی خلاف ورزیوں کی تازہ ترین کارروائی کے سلسلے میں "ملٹری سیکورٹی" نے البوکمال شہر میں تقریبا 50 گھروں کے باسیوں کو خبردار کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر علاقے سے چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔

شام میں ایرانی ملیشیا
شام میں ایرانی ملیشیا

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے مطابق ان گھروں کی ملکیت شامی حکومت کے مخالفین کے پاس ہے جنہوں نے مارچ 2011ء میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک میں شرکت کی تھی۔ داعش تنظیم اور پھر ایرانیوں کے کنٹرول کے بعد یہ لوگ البوکمال شہر سے جبری ہجرت پر مجبور ہو گئے۔

المرصد نے بتایا ہے کہ یہ پیش رفت ایرانی پاسدران انقلاب کی ہمنوا ملیشیا "ابو الفضل العباس" کے ذیلی مسلح گروپوں کی جانب سے ہفتے کے روز البلعوم کے علاقے میں ایک فیول اسٹیشن پر قبضے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ علاقہ المیادین شہر کے اطراف واقع ہے۔

یہ کارروائی مذکورہ ملیشیا کے کمانڈر عدنان السعود کے براہ راست حکم پر کی گئی۔

واضح رہے کہ السعود کا تعلق المیادین شہر سے ہے۔ وہ سبزی بیچنے کا کام کرتا تھا۔ علاوہ ازیں اس نے شہر پر داعش تنظیم کے قبضے کے عرصے کے دوران شامی حکومت کے سیکورٹی ادارے کے لیے مخبر کے طور پر بھی کام کیا۔ بعد ازاں وہ بھاگ کر دمشق چلا گیا۔

علاقے پر شامی حکومت اور ایرانی ملیشیاؤں کے کنٹرول کے بعد السعود واپس آ گیا۔ اس نے المیادین میں "ابو الفضل العباس" کے نام سے ایک ملیشیا تشکیل دی۔ اس ملیشیا کو ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے براہ راست فنڈنگ ملتی ہے۔

ابو الفضل العباس ملیشیا المیادین کے علاقے میں سب سے بڑی تہران نواز مقامی ملیشیا شمار ہوتی ہے۔

شام میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا
شام میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا

یاد رہے کہ رواں ماہ کے دوران دیر الزور صوبے میں پھیلی ایرانی ملیشیاؤں نے فضائی حملوں نے بچنے کے لیے مسلسل اپنے مراکز کو تبدیل کیا۔ لہذا انہیں اس کے سوا کوئی حل نہ ملا کہ اپنے ساز و سامان کو محفوظ رکھنے کے لیے علاقے میں شہریوں کے گھروں کو قبضے میں لے لیں۔ ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ تہران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں نے المزارع کے علاقے میں گھروں پر قبضہ کر لیا۔ یہ علاقہ دیر الزور صوبے میں المیادین شہر کے مرکز سے تقریبا 20 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔

المرصد گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ملیشیاؤں کی قیادت نے المزارع کے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ علاقے میں کھجور اور زیتون کے 150 کے قریب فارمز شامل ہیں۔