.

'جبال خولان' کے لوگ خود کو پھولوں سے کیوں سجاتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے علاقے جازان میں جبال خولان میں مقامی لوگ وہاں پر اگنے والے مشہور پھول'عکاوہ' اور خوش بودار پودوں کے پتوں سے اپنے سروں کو مزین کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ انہیں قومی لباس اور روز مرہ کے لباس کا حصہ بناتے ہیں اور یہ سلسلہ نسل در نسل صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اسے مقامی سطح پر جنوبی سعودی عرب میں عوامی تشخص، ثقافت سیاحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں میں بھی خاصا مقبول ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سعودی عرب کے طول و عرض میں فرانس اور یورپی مارکہ پرفیومز کی کوئی کمی نہیں بلکہ جازان میں اگنے والے عطر بیز پھولوں کی اپنی ہی خوشبو ہے۔ یہ پھول اپنی بھینی بھینی خوشبو کے ساتھ خوبصورت اور دلفریب رنگوں کی وجہ سے بھی شہریوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

 فوٹو گرافر۔  سلطان مجھلی
فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی
فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی
فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی


پھولوں سےزیب وزینت صرف مردوں کا خاصہ نہیں بلکہ یہ پھول خواتین میں بھی مشہور اور مقبول ہیں۔ خولان کے محقق ڈاکٹر حسن المدری الفیفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'عکارہ' پھول مردوں کی زیب وزینت کے لیے خاص ہیں تاہم خواتین زرد یا سرخ رنگ کے پھولوں کے ہار بنا کر انہیں پہنتی ہیں اور بعض زرد اور سرخ دونوں رنگوں کے پھولوں کو استعمال کرتی ہیں۔

فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی
فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی
فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی
فوٹو گرافر۔ سلطان مجھلی


ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہا کہ خولان کے مرد غیر ضروری طور پر اپنے سر کے بال چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ روایتی طریقہ ہے۔ خوشگوار پودے پہاڑی ماحول میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یا تو جنگلی نوعیت میں نشیبی علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ ماضی میں ان پھولوں سے بادشاہوں اور شہزادوں کی عبائیں سجائی جاتی تھیں اور ان کے تاج مزین کیے جاتے۔ مگر اب یہ لوگوں کی عام روایت بن چکے ہیں۔ مقامی لوگ 'عکاوہ' کے جس پھول کو استعمال کرتے ہیں اس کی کئی اقسام ہیں تاہم ایسے پھول جن پر شہد کی مکھیاں بیٹھتی ہیں ان کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کی اقسام میں البِعَيْثْران ،الهِزَّاب ،الشِّيح ،السِّكَب ،الوالَة ،الفَنْكَة والصَّنْبَر،عين العَناق،الرَّيحان، الكادي اور کئی دوسری اقسام ہیں۔