.

حوثیوں کی جانب سے خمیس مشیط پر ڈرون حملے کی کوشش ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد نے آج منگل کے روز سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کی سمت بھیجا جانے والا دھماکا خیز ڈرون طیارہ فضا میں تباہ کر دیا۔ یہ ڈرون طیارہ حوثی ملیشیا نے بھیجا تھا۔

عرب اتحاد نے باور کرایا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کو دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنے کے واسطے مطلوبہ اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔

اس سے قبل پیر کے روز مذکورہ عرب اتحاد نے صعدہ صوبے میں حوثیوں کا بیسلٹک میزائل کا گودام اور لانچنگ پیڈوں کو تباہ کر دیا۔ اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس کی عسکری کارروائیاں بین الاقوامی اور انسانی قانون کے موافق ہیں۔

یہ پیش رفت پیر کے روز یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے ایک اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی۔ اعلان میں بتایا گیا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کی سمت دو بیلسٹک میزائل داغے تھے۔ عرب اتحاد کے مطابق دونوں میزائل غیر آباد سرحدی علاقوں میں گرے۔ یہ دونوں میزائل یمن کے شہر صعدہ سے داغے گئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی اراضی کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی تمام کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

پیر کے روز وزارت خارجہ کی نائب ترجمان گیلینا پورٹر نے کہا کہ یہ کوششیں ناقابل قبول اور خطر ناک ہیں ، ان سے شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ گیلینیا کے مطابق ان کے ملک کو حوثی ملیشیا کی ان خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے۔

اسی طرح امریکی عہدے دار نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ فائر بندی پر کاربند رہے۔ مزید برآں یمن کے لیے امریکا کے ایلچی ٹموتھی لینڈرکنگ کے ساتھ تعاون کے ذریعے اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی مذاکرات میں شامل ہو۔ حوثیوں کے تصرفات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امن کے خواہش مند نہیں۔

یاد رہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا نے گذشتہ دنوں کے دوران سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ کئی عرب اور مغربی ممالک نے ان کوششوں کو مذموم قرار دیتے ہوئے مملکت اور اس کے امن کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر زور دیا ہے۔