.

حوثیوں کی سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کوششیں ، امریکا کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی اراضی کو میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کی حوثی ملیشیا کی تمام کوششوں کی شدید مذمت کی ہے۔

پیر کے روز وزارت خارجہ کی نائب ترجمان گیلینا پورٹر نے کہا کہ یہ کوششیں ناقابل قبول اور خطر ناک ہیں ، ان سے شہریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ گیلینیا کے مطابق ان کے ملک کو حوثی ملیشیا کی ان خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے۔

اسی طرح امریکی عہدے دار نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ فائر بندی پر کاربند رہے۔ مزید برآں یمن کے لیے امریکا کے ایلچی ٹموتھی لینڈرکنگ کے ساتھ تعاون کے ذریعے اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی مذاکرات میں شامل ہو۔ حوثیوں کے تصرفات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امن کے خواہش مند نہیں۔

ٹیلی فون کے ذریعے منعقد پریس کانفرنس میں گیلینا نے باور کرایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حوثی ملیشیا مذاکرات کی میز پر آئے اور خطے میں امن اور سفارت کاری کی پاسداری کرے۔ ترجمان کے مطابق "یمن کے تمام علاقوں میں فائر بندی کے واسطے امریکا کا ایک ٹھوس منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں انسانی صورت حال کا علاج شامل ہے۔ یہ منصوبہ کئی روز سے حوثیوں کے سامنے موجود ہے"۔

یاد رہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا نے گذشتہ دنوں کے دوران سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ کئی عرب اور مغربی ممالک نے ان کوششوں کو مذموم قرار دیتے ہوئے مملکت اور اس کے امن کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر زور دیا ہے۔