.

شام کی سرزمین پر پانچ فوجیں لڑ رہی ہیں: یو این ایلچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی کے 10 سال مکمل ہونے پر شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب گیر پیڈرسن نے شام کے عوام کو درپیش ناانصافی ، غربت ، موت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری شامی عوام کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب میں انہوں‌ نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کی پیشرفت کے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر اہم فریقوں کو اپنے اپنے موقف میں لچک دکھانا ہو گی۔انہوں‌ نے خبردار کیا کہ اگر شام میں دیر پا امن اور جنگ بندی کا کوئی اقدام نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں ایک نئی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے اور صورت حال قابو سے باہر ہوجائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شامی شہریوں نے بیک وقت 5 اپنی فوجوں کو اپنی سرزمین پر لڑتے ہوئے دیکھا۔ ان میں ترکی کی فوجی،روسی اور ایرانی افواج کے علاوہ 'داعش' کے جنگجو بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے شام میں بگڑتے ہوئے حالات زندگی اور بڑھتی ہوئی غربت اور بدحالی کے بارے میں خبردار کیا۔ گیرپیڈرسن کا کہنا تھا کہ شامی عوام جس بحران سے گذر رہے ہیں اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شامی عوام خوراک اور ادویات سے محروم ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ان کے پیارے ان کی تلاش میں ہیں۔ دس سال گذر جانے کے باوجود تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔