.

عراق: بلد کے فضائی اڈے پر 7 راکٹوں سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سیکورٹی ذمے داران نے بتایا ہے کہ کل پیر کے روز بغداد کے شمال میں واقع بلد کے فضائی اڈے پر کم از کم پانچ راکٹ آ کر گرے۔ تاہم واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ ذمے داران کا مزید کہنا تھا کہ دو دیگر راکٹ مذکورہ اڈے سے باہر دیہی علاقے میں گرے۔ ان سے بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یہ تمام راکٹ کیٹوشیا ماڈل کے تھے اور انہیں دیالی صوبے میں ایک پڑوسی گاؤں سے داغا گیا۔ ابھی تک کسی فریق نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

عراقی ذمے داران کے مطابق اس سے قبل ایران نواز مسلح جماعتوں کی جانب سے اس نوعیت کے واقعات کی ذمے داری قبول کی جاتی رہی ہے۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے مطابق اسے مذکورہ حملے کا علم ہے۔ پینٹاگان نے تصدیق کی ہے کہ کارروائی میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی خاتون بحری کمانڈر جیسیکا میکنولٹی نے واضح کیا کہ عراق میں بلد کے فضائی اڈے پر امریکی فوج یا اتحادی فورسز کا کوئی اہل کار موجود نہیں ہے۔

جنوری 2020ء میں بغداد میں امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔

ایران نے اس کارروائی کے جواب میں عراق میں عین الاسد اور اربیل میں فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں کی بارش کر دی تھی۔ اس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

اس کے اگلے دس ماہ کے دوران عراق کے مختلف علاقوں میں مغربی سیکورٹی، عسکری اور سفارتی ٹھکانوں کو درجنوں میزائلوں اور دھماکا خیز آلات کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان میں بعض کارروائیوں میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ البتہ گذشتہ برس اکتوبر میں سخت گیر جماعتوں کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے بعد ان حملوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی۔ تاہم گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں ان میں پھر سے تیزی دکھائی دے رہی ہے۔