.

اردن : 16 سالہ لڑکے کی آنکھیں نکالنے اور بازو کاٹنے والے 6افراد کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن میں ایک اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے گذشتہ سال اکتوبر میں 16 سالہ لڑکے کی آنکھیں نکالنے اور بازو کاٹنے کے جرم میں چھے افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں دارالحکومت عمان کے شمال مشرق میں واقع شہر زرقا میں اس لڑکے کو سترہ افراد نے اغوا کرلیا تھا۔انھوں نے اس کو کسی ویران جگہ پر لے جا کر اس کے دونوں ہاتھ کاٹ دیے تھے اور دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی دونوں آنکھیں بھی نکال دی تھیں۔

اس لڑکے کا شاہ عبداللہ دوم کے حکم پر شاہ حسین اسپتال میں خصوصی علاج کیا گیا تھا اور اس کی ایک آنکھ کی بینائی بحال کردی گئی ہے۔

یہ گینگ اس لڑکے کو اس کے والد کے کیے کی سزا دینا چاہتا تھا۔اس لڑکے کے والد کو ان میں سے چار افراد کے بھائی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے درمیان مالی لین دین کے تنازع پر اس شخص کا قتل ہوا تھا۔

اس لڑکے سے سفاکیت کے مظاہرے پر اردن میں سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔ خود ملکہ رانیا نے اس واقعہ کو تمام پہلوؤں سے ناقابل بیان سفاکیت قراردیا تھا۔اردن بھر میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور سوشل میڈیا پر شہریوں نے سفاکیت کا مظاہرہ کرنے والے ملزموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس پر شاہ عبداللہ دوم نے ان مجرموں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے دوسرے مدعاعلیہان میں سے ایک کو 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے ایک مجرم کواس لڑکے کے اغوا کے الزام میں قصوروار قرار دے کر 10 سال قید کی سزا سنائی ہے اور دو کو ایک ایک سال قید کا حکم دیا ہے۔عدالت نے سات ملزموں کو بری کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اردن میں مارچ 2017ء کے بعد کسی مجرم کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا ہے۔البتہ عدالتوں نے سنگین جرائم میں ملوث میں مجرموں کو سزائے موت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔2017ء ہی میں اردن میں 15 مجرموں کو پھانسی دی تھی۔ان میں سے 10 کو دہشت گردی کے جرم میں تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔