.
بشار اور شام

جنوبی دمشق میں ایرانی ملیشیا کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملے

2020 کے دوران شام میں کم سے کم 50 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بشار الاسد حکومت کے ملکیتی شامی نیوز چینل اور سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے مطابق شامی ائیر ڈیفنس نے منگل کی رات دمشق کے مضافات میں کی جانے والی ’’اسرائیلی جارحیت‘‘ کو ناکام بنا دیا۔ اسرائیل کی جانب سے داغے گئی متعدد میزائلوں کو شامی فضائی حدود میں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکارہ بنا دیا گیا۔

’’سانا‘‘ کے مطابق شامی ایئر ڈیفنس نے دمشق کے جنوبی ریجن پر اسرائیلی جارحیت ناکام بنا دی۔‘‘

شامی نیوز چینل نے بتایا کہ دمشق کے گرد ونواح میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ آوازیں جنوبی ریجن پر اسرائیلی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے ہماری [شامی] ایئر ڈیفنس کی کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔

انسانی حقوق مانیٹرنگ گروپ نے بتایا کہ دمشق کے گرد ونواح میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جو اسرائیلی میزائل حملوں کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔ ان حملوں میں شامی فوج کے ٹھکانوں میں واقع ایرانی ملیشیا کے گولا بارود گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ شامی فوج کے یہ ٹھکانے دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے چند کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہیں۔

مانیٹرنگ گروپ کے مطابق شامی ایئر ڈیفنس نے اسرائیلی میزائلوں کو روکنے کے لیے میزائل شکن کارروائی کی۔ اس کارروائی میں اب تک ہونے والے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

یاد رہے گذشتہ چند مہینوں سے اسرائیل نے شام کے اندر فوجی اہداف اور شامی ہی میں سرگرم ایرانی فوج اور ان کے حمایت یافتہ گروپوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

اسرائیل نے 13 جنوری کو مشرقی شام میں فوجی ٹھکانے اور گولا بارود کے ڈپو پر حملہ کیا تھا جس میں شامی فوج اور ایران نواز گروپوں کے 57 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد تھی۔

شام میں کیے جانے والے حملوں کی اسرائیل بہت کم ہی ذمہ داری قبول کرتا ہے، تاہم اسرائیلی فوج نے گذشتہ برس جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2020 میں اس نوعیت کے کم سے کم 50 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم ان اہداف پر کیے گئے حملوں سے ہونے والے جانی ومالی نقصان کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔