.

سعودی شہری کے گھر میں نایاب نوادرات کا بیش قیمت ذخیرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے اپنے گھر میں وسیع وعریض میوزیم قائم کرکے حیران کر دیا ہے۔ وہ چار دھائیوں سے نوادرات جمع کررہا ہے۔ اس کے گھر میں جمع کی گئی نوادرات میں ڈائنوسارز کی ہڈیاں بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کے فیصل الفایدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس نے اپنے گھر پر 7 ہزار میٹر کی جگہ کو ایک میوزیم کی شکل دے رکھی ہے۔ اس میوزیم میں انواع واقسام کی نوادرات ہیں جن میں بعض انتہائی نایاب نوادارت ہیں۔ ان میں ڈائنوسارز کی ہڈٰیاں بھی رکھی گئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الفایدی نے کہا کہ اس نے شمال مغربی سعودی عرب میں املج کے مقام پر 'المناخہ' کے مقام پر میوزیم بنا رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ املج گورنری میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا عجائب گھر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میوزیم کا افتتاح میرے والد میجر جنرل ڈاکٹر مساعد سلامہ الفایدی نے 1436ھ میں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں الفایدی کا کہنا تھا کہ عجائب گھر کےقیام اور نوادرات جمع کرنے کا مقصد اپنے آبائو اجداد کی ثقافت کو محفوظ کرنا ہے۔ وہ چالیس سال سے نوادرات جمع کر رہا ہے۔

اس کے میوزیم میں موجود نوادرات میں پرانی کتابیں، کپڑےپرانی گاڑیوں کے ڈھانچے، املج میں ماضی میں استعمال ہونے والی گھریلو اشیا شامل ہیں۔ ان میں ڈائنوسار کی 650 ملین سال پرانی ہڈیاں بھی محفوظ ہیں‌۔ حمیری دور کے پتھر کے خنجر، سعودی عرب میں سب سے پہلا کرنسی سکہ جو 1354 میں جاری کیا گیا اس میوزیم کا حصہ ہے۔