.

شاہ سعود نے طواف کے دوران اپنے والد شاہ عبدالعزیز کو قاتلانہ حملے سے کیسے بچایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج سے 86 سال قبل 1935ء کو حج کے موقعے پر طواف افاضہ کے دوران سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود پر قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کی گئی۔ تاہم شاہ عبدالعزیز کے فرزند شاہ سعود نے یہ حملہ ناکام بنا دیا اور اپنے والد گرامی کو اس حملے سے بچا لیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق شاہ عبدالعزیز نے اپنے صاحب زادے شہزادہ سعود اور اپنے ذاتی محافظ کے ہمراہ دوسرے حجاج کے ساتھ طواف کعبہ شروع کیا۔ جب انہوں نے طواف کعبہ کا پانچواں چکر شروع کیا اور حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے اس کے قریب پہنچے۔ اس دروان حجر اسماعیل کے قریب سے ایک شخص ان کی طرف لپکا اور اپنے ہاتھ میں موجود خنجر سے شاہ عبدالعزیز پرحملے کی کوشش کی۔

حملہ آور کو دیکھتے ہی ولی عہد شہزادہ سعود اپنے والد کے اوپر گر گئے۔ حملہ آور کے خنجرکا وار اپنی پشت پر برداشت کرلیا۔ اس حملے میں شہزادہ سعود شدید زخمی ہوئے۔ اسی موقعے پر زمزم کے کنوئیں اور ملتزم کے مقام سے خنجر لہراتے ہوئے اور شاہ سلمان کی طرف بڑھے تاہم شاہ عبدالعزیز کے محافظوں نے انہیں قتل کر دیا۔

جب حملہ آوروں کی شہریت معلوم ہوئی اور انتہا پسندوں کی طرف سے مزید حملے کا خدشہ پیدا ہوا تو سیکیورٹی عملے نے حرم مکی کو بند کردیا۔ اس کےبعد حرم مکی کو خون سے صاف کیا گیا۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنا طواف مکمل کیا اور گھوڑے پر سعی کی۔

شاہ عبدالعزیز پر قاتلانہ حملہ کرنے والے تینوں مجرموں کی نایاب تصاویر آج بھی موجود ہیں۔ انہیں موقعے پر ہی کیفر کردار تک پہنچایا دیا گیا۔ ان کی لاشیں آہنی چارپائی پر دیکھی جاسکتی ہیں اور ان کے پیچھے شاہ سلمان کے محافظ کھڑے تھےجنہوں‌نے اس مجرمانہ واردات کو بہادری کے ساتھ ناکام بنا دیا تھا۔