.

یمن کے صدارتی محل ’معاشیق‘ پر حملہ، سعودی عرب کا مذمتی بیان

’’مشکل حالات میں یمنی حکومت کو عوامی خدمت ادا کرنے کا موقع دیا جائے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت نے عدن میں صدارتی محل ’معاشیق‘ پر مظاہرین کے حملے کی مذمت میں سعودی عرب کے جاری کردہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ بیان میں یمنی حکومت نے مشکل حالات میں عوامی خدمت کا موقع دینے کی اہمیت کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

بیان میں یمنی حکومت نے شکر وامتنان سے لبریز جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے صدارتی محل پر حملے کی مذمت دراصل مملکت کی ان برادرانہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو الریاض خون خرابہ روکنے اور یمن میں حوثی بغاوت کا مقابلہ کرتے ہوئے حالات کو نارملائز کرنے کے سلسلے میں کر رہی ہے۔

عدن میں موجود معاشیق صدارتی محل۔
عدن میں موجود معاشیق صدارتی محل۔

سعودی عرب نے اپنے بیان میں الریاض میں طے پانے والے معاہدے کی سیکیورٹی اور فوجی انتظامات سے متعلق شقوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان عمل درآمد مملکت سعودی عرب کے بھائیوں کے تعاون کے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔

یمن میں گذشتہ برس 30 ستمبر سے عدن میں معین عبدالملک کی قیادت میں زمام کار سنبھالنے والی عبوری حکومت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے سعودی عرب کا کہنا تھا کہ یمنی حکومت کو اپنے عوام کی مکمل خدمت کا بھرپور موقع دیا جانا چاہے۔

سعودی عرب نے الریاض معاہدے پر دستخط کرنے والے فریقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ معاہدے کے دیگر نقاط پر عمل درآمد کے لئے آگے آئیں کیونکہ یہ دستاویز یمنیوں کی صفوں کو متحد رکھنے کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔

الریاض دفتر خارجہ سمجھتا ہے کہ الریاض معاہدے پر عمل درآمد سے ہی یمنی خون خرابہ اور ان کے درمیان تنازع کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی پر عمل کرتے ہوئے یمن عوام اپنے ملک کی خود مختاری اور استحکام واپس لا سکتے ہیں۔

منگل کی رات یمنی حکومت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عدن کے عبوری دارلحکومت میں قائم صدارتی محل ’معاشیق‘ پر مظاہرین کا حملہ کسی بھی طور پر قانونی دائرے میں پرامن مظاہرہ نہیں تھا۔ یہ دنگا فساد، مملکت اور قانون پر حملہ تھا۔

یاد رہے مظاہرین نے منگل کے روز ’معاشیق‘ محل پر حملہ کیا تھا جہاں الریاض معاہدے کے بعد عدن میں قائم حکومت رہائش پذیر ہے۔ مظاہرین بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی اور تن خواہوں کی عدم ادائی سمیت یمنی لیرا کی قدر میں مسلسل گراوٹ جیسے ایشوز پر احتجاج کر رہے تھے۔