.

حشرات کی 400 اقسام کی خوب صورتی اجاگر کرنے والا سعودی فوٹوگرافر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر دمام سے تعلق رکھنے والے نوجوان کیمرہ مین "فواز واصلی" نے نادر نوعیت کے حشرات کی ایک تصویر لینے کی خاطر مسلسل 5 گھنٹے پہاڑوں کی چٹانوں ، وادیوں کی جھاڑیوں اور کھیتوں کے درمیان چکر کاٹتے گزارے۔ فواز نے اس مقصد کے لیے "میکرو" ٹکنالوجی کا استعمال کیا۔ اس طرح وہ مملکت میں تصویر کشی کی اس دشوار نوعیت کا تجربہ کرنے والے 10 ویں فوٹوگرافر بن گئے۔

فواد نے 3 برس سے زیادہ عرصے میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں نادر نوعیت کے حشرات کی 400 سے زیادہ اقسام کی تصاویر اتاریں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی نوجوان نے بتایا کہ "مجھے فوٹوگرافی سے عشق رہا ہے۔ میں نے اس بات کو ترجیح دی کہ ایک مختلف طریقے سے کام کا آغاز کروں۔ میں مملکت کے جنوبی ، مشرقی اور مغربی علاقوں میں گھومتا رہا تا کہ نادر ترین نوعیت کے حشرات کو تلاش کر سکوں۔ یہ حشرات زیادہ تر وادیوں، پودوں کے غیر آباد مقامات، گھروں میں پھولوں، کھیتوں اور پہاڑوں میں پائے جاتے ہیں"۔

فواز نے مزید بتایا کہ "اس مخلوق کی تصویر کشی بہت مشکل کام ہے۔ اس کے لیے اعلی درجے کی مہارت درکار ہوتی ہے۔ تصاویر کے نتائج بھی کوئی آسان نہیں ہوتے ،،، مطلوبہ نتائج حاصل تصاویر میں ضم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ ان خوب صورت مخلوقات کی تصاویر حاصل کرنے کے لیے مجھے طویل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے تاہم اس کے باوجود میں ان نتائج سے بے حد لطف اندوز ہوتا ہوں"۔

فواز کہتے ہیں کہ "تصویر کے اس سفر کی ابتدا ان حشرات کی تلاش سے ہوتی ہے جو عموما بِھڑوں، شہد کی مکھیوں اور مکھیوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ مطلوبہ نوعیت کا کیڑا تلاش کرنے میں 3 گھنٹے تک لگ جاتے ہیں۔ پھر میں اس کیڑے کو ایک ڈبے میں رکھتا ہوں۔ اس کے بعد اس کی بہترین تصویر لیتا ہوں ... اب تک میں نے جس عجیب ترین کیڑے کی تصویر لی ہے وہ مشرقی صوبے میں الاحساء ضلع کے مشرق میں واقع علاقے میں تھا۔ اس کا نام 'خیل کی مکھی' ہے۔ اس کی تلاش کا سفر 4 گھنٹے جاری رہا۔ یہ حجم میں نہایت چھوٹی ہوتی ہے"۔

یاد رہے کہ "میکرو" فوٹوگرافی باریک اجسام کی قریب سے تصویر کشی کا فن ہے۔ اس کا مقصد ان اجسام کی تفصیلات کو واضح طور پر نمایاں کرنا ہے۔ یہ اجسام جمادات، حیوانات، حشرات وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ دشوار ترین شمار کی جانے والی اس فوٹوگرافی میں صبر اور قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ معمولی سی غفلت یا بے دھیانی سے تصویر کشی متاثر ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔