ایران بشارالاسد کے انجام سے مُشوِش، حزب اللہ کے وفد کی ماسکو آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی ذرائع ابلاغ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماسکو حکومت کا اپنے حلیف صدر بشارالاسد کے بارے میں موقف تبدیل کیے جانے سے متعلق خبروں کے بعد ایران نے تشویش کا اظہارکیا ہے۔ دوسری طرف ایران نے حزب اللہ کا ایک وفد بات چیت کے لیے ماسکو بھیجا ہے۔ اس وفد نے روسی حکام کے ساتھ شام کے موجودہ بحران سمیت بشارالاسد کے بارے میں ممکنہ طورپر روس کے بدلتے موقف پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

گذشتہ پیر کے روز اخبار "نیزویسمایا گزٹا" میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ حزب اللہ" وفد شامی حکومت کے سربراہ بشارالاسد کے بارے میں ماسکو کے موقف میں تبدیلی کی حقیقت جاننا چاہتا ہے۔

حزب اللہ کے وفد کا دورہ روس
حزب اللہ کے وفد کا دورہ روس

گذشتہ برس دسمبرمیں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ کہا تھا کہ پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی نے سنہ 2015ء میں روسی صدر ولادی میر پوتین کو شام میں فوجی مداخلت پر قائل کیا تھا۔

حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کے بعض دوستوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ دارالحکومت دمشق میں لڑائی شدت اختیار کرنے کےبعد وہاں سے نکل جائیں اور اللاذقیہ میں قیام کریں۔ اس کے بعد ایران اور روس نے شام میں بڑی تعداد میں اپنی فوجیں تعینات کر دیں۔

روسی اخبار کے مطابق حزب اللہ کے وفد نے ایک ایسے وقت میں ماسکو کا دورہ کیا ہے جب انہی ایام میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیبی اشکنزئی بھی روس کے دورے پر کل بدھ کو پہنچے۔

حزب اللہ کے وفد کا دورہ روس
حزب اللہ کے وفد کا دورہ روس

شام میں سنہ 2011ء اور 2012ء کو شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد روس بھی بشارالاسد کے انجام سے خائف ہو گیا تھا۔

ادھر روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ وزیر خارجہ سیرگی لافروف نے حزب اللہ کے پارلیمانی لیڈر محمد رعد سے ملاقات کی۔ دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شام اور لبنان کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں