.

سیٹلائٹ تصاویر سے ایران کے نئے میزائل پلیٹ فارم کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصنوعی سیارے سے لی گئی تازہ ترین تصاویر میں ایران کے نئے میزائل پلیٹ فارم کا انکشاف ہوا ہے۔ سیٹلائٹس سےملنے والی تصاویر کے مطابق یہ میزائل پلیٹ فارم جنوب مغربی ایران کے علاقے بندر عباس کے قریب پہاڑی علاقے'خورگو' میں قائم ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق "Maxar Technologies'' ایک پہاڑ میں کل چار غاریں دکھائی گئی ہیں۔ ان میں سے تین غاریں تقریبا مکمل ہیں جنہیں میزائل پلیٹ فارم کے لیے تقریبا مکمل ہوچکے ہیں اور میزائل لانچروں کے طور پر استعمال کیے جانے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی جوہری پلیٹ فارم

دستیاب معلومات کے مطابق اس سائٹ پر کام تین سال پہلے شروع ہوا تھا۔ اگر یہ پلیٹ فارم ایک بار مکمل آپریشنل صلاحیت حاصل کرلیتا ہے تو اس کے اثرات کو روکنا آسان نہیں ہو گا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے سمندر کے کنارے ایک نیا میزائل سٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایرانی میزائل
ایرانی میزائل

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ارنا' کی رپورٹ کے مطابق یہ میزائل سٹی پروجیکٹ ایرانی نیوی کے زیراہتمام شروع کیا گیا ہے۔ اس نئے منصوبے میں میزائل سازی کے لیے تنصیبات قائم کی جائیں گی۔

منصوبے کا باقاعدہ افتتاح ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی کی زیرصدارت ہوا۔ میزائل سٹی کی افتتاحی تقریب میں ایرانی نیول چیف بریگیڈیئر علی رضا تنکسیری اور دیگر اعلیٰ عسکری عہدیدار موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس "میزائل شہر" میں کروز میزائل سسٹم ، بیلسٹک میزائل اور مختلف رینج تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

ایرانی میزائل
ایرانی میزائل

اگرچہ اس رپورٹ میں اس "میزائل شہر" کے مقام کی وضاحت نہیں کی گئی ہے لیکن توقع کی جارہی ہے کہ یہ خلیج فارس یا بحیرہ عمان پر واقع پاسداران انقلاب کے اڈوں میں کسی ایک میں واقع ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک سابقہ رپورٹ میں امریکی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

اس تناظر میں امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے ایرانی اسلحے پر تبصرہ کرتے ہوئے العربیہ کو بتایا کہ امریکا کی پالیسی واضح ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔