.

فلسطین کے آیندہ انتخابات میں محمودعباس ہی واحد صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے:دحلان

یو اے ای سعودی عرب کے بعد فلسطینیوں کو سب سے زیادہ مالی امداد دینے والا دوسرا بڑاعرب ملک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے آیندہ انتخابات میں محمود عباس ہی واحد صدارتی امیدوار نہیں ہوں گے۔ان کے مدمقابل اور بھی امیدوار سامنے آئیں گے۔

یہ بات غزہ کی پٹی میں صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے سابق لیڈر محمد دحلان نے العربیہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے اپنی گفتگو میں اس رائے کا اظہار کیا ہے:’’موجودہ فلسطینی ادارے یہ فیصلہ کریں گے کہ کون کون امیدواروں کی فہرست میں شامل ہوگا۔اگر ہم کسی خاص فرد کو صدارت کے لیے نامزد کرتے ہیں تو میں آپ کو یہ ضمانت دینا چاہتا ہوں کہ برادر ابو مازن (محمود عباس) ہی آیندہ انتخابات میں واحد امیدوار نہیں ہوں گے۔‘‘

البتہ محمد دحلان نے اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا وہ خود کو آیندہ پارلیمانی یا صدارتی انتخابات میں نامزد کریں گے۔وہ ایک عرصے سے فتح میں صدر محمودعباس کے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں۔وہ غزہ چھوڑنے کے بعد گذشتہ کئی برس سے متحدہ عرب امارات میں رہ رہے ہیں۔ان کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آیندہ صدارتی انتخابات میں محمود عباس کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

دو روز قبل ہی فتح اور اس کی حریف فلسطینی جماعت حماس نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مذاکرات میں آیندہ انتخابات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے ایک ضابطہ اخلاق سے اتفاق کیا ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پارلیمانی انتخابات 22مئی اور صدارتی انتخابات 31 جولائی کو ہوں گے۔

محمد دحلان نے انٹرویو میں یو اے ای میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے اور غزہ کے مکینوں کے لیےکووِڈ-19 کی ویکسین کے حصول کے لیے کردار سے متعلق تنقید کا بھی جواب دیا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’یو اے ای کا فلسطینی نصب العین میں ماضی ، حال یا مستقبل میں لالچ پر مبنی مفاد وابستہ نہیں ہے۔انھوں نے اپنے ذاتی مفادات کی بنا پر اسرائیل سے معمول کے تعلقات استوار کرنے کا سیاسی اور خود مختارانہ فیصلہ کیا تھا۔جہاں تک ان کی معاونت کا تعلق ہے تو یواے ای فلسطینی عوام کی مالی مدد کرنے والا سعودی عرب کے بعد دوسرا بڑا عرب ملک ہے۔‘‘

محمد دحلان اس وقت فتح تحریک کے ایک منحرف دھڑے کی قیادت کررہے ہیں۔یہ دھڑا چودہ سال کے بعد ایک مرتبہ پھر غزہ کی پٹی میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہا ہے۔گذشتہ ماہ ہی اس تحریک کے دو لیڈر غزہ لوٹے ہیں۔

انٹرویو میں ان سے جب ایک مرتبہ پھر یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ پارلیمانی یا صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے تو انھوں نے واضح طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔البتہ یہ کہا کہ وہ فی الوقت اپنے ذاتی اور قومی فریضے پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا:’’میں ذاتی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔میں ان لوگوں کے بارے میں بات کرنا چاہتاہوں جو گذشتہ پندرہ سال سے مصائب جھیل رہے ہیں۔اس عرصہ کے دوران میں فلسطینی عوام میں غُربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے،ان میں امراض بڑھے ہیں، وہ تناؤ کا شکار ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ امید کھوبیٹھے ہیں۔چناں چہ میں لوگوں کے اس گروپ سے تعلق رکھتا ہوں جس نے فلسطینی انقلاب یا فلسطینی قومی اتھارٹی کے قیام کی قیمت ادا کی ہے۔‘‘

دحلان کا کہنا تھا کہ ’’ میں فلسطینی نیشنل اتھارٹی میں رہوں یا نہ رہوں، میں اپنی ذاتی اور قومی ذمے داری ادا کرنا چاہتا ہوں۔میں گذشتہ قریباً پندرہ سال سے فلسطینی نیشنل اتھارٹی سے باہر ہوں۔میں نے اپنا فرض نبھانے میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کی لیکن کسی نے مجھے یہ ڈیوٹی نہیں دی، میں نے خود کو یہ ڈیوٹی دے رکھی ہے اور اپنے عوام کے ساتھ کسی بھی بحران کے وقت کھڑا رہا ہوں۔‘‘