.

ترکی نے الاخوان کے ٹی وی چینلوں کو مصر مخالف مواد نشر کرنے سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے مصری کالعدم تنظیم الاخوان المسلمین سے الحاق رکھنے والے استنبول میں واقع ٹی وی چینلوں کو حکم دیا ہے کہ وہ مصر کے حوالے سے تنقید پر مشتمل مواد نشر کرنا فوری طور پر روک دیں۔ یہ بات اس معاملے سے واقف ذرائع نے جمعرات کے روز بتائی۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصر اور ترکی اپنے درمیان تناؤ کم کرنے کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔ یہ تناؤ 2013ء میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب مصر کی فوج نے الاخوان سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ مرسی ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حلیف تھے۔

اس کے بعد سے قاہرہ حکومت نے الاخوان کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دے دیا۔ مصر میں سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دیے جانے کے بعد الاخوان کے متعدد رہ نما اور ان کے حامی ترکی چلے گئے۔

حالیہ دنوں میں مصر اور ترک ذمے داران یہ بتا چکے ہیں کہ دنوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہے۔

اس معاملے کی جان کاری رکھنے والے ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ ترکی نے الاخوان کے زیر انتظام تین چینلوں (الشرق ٹی وی ، وطن ٹی وی اور مکملین ٹی وی) کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ مصر پر تنقید کرنے والے سیاسی شوز کو نشر کرنا فوری طور پر بند کریں اور صرف غیر سیاسی مواد نشر کرنے کو یقینی بنائیں۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والے چینلوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ ان میں ٹی وی چینل کی مستقل بندش بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ترک حکام کے فیصلے نے الاخوان کی قیادت پر تنقید اور نکتہ چینی کا دروازہ کھول دیا۔ ترکی فرار ہونے والے الاخوان کے سابق رہ نما عاصم عبدالماجد نے تنظیم کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے فیس بک پر اپنے بلاگ میں کہا ہے "آپ لوگ ترکی کو ملامت کا نشانہ مت بنائیں بلکہ خود کو ملامت کریں"۔

عاصم کے مطابق ترک صدر ایردوآن نے الاخوان کے رہ نماؤں کی میزبانی کی۔ ان رہ نماؤں نے یہ جاننے کے باوجود کہ السعادات پارٹی دن رات علانیہ طور پر صدر ایردوآن کے خلاف سازشوں کا جال بنتی رہتی ہے ،،، اس جماعت کے لیے اپنی وفاداری کا اعلان کر دیا۔ یہ پارٹی ترکی میں الاخوان کی نمائندہ جماعت ہے۔ السعادات پارٹی کے ووٹوں کا تناسب مجموعی طور پر 1% سے زیادہ نہیں تاہم ترکی کے انتخابات اس سادہ سے تناسب سے شدید طور متاثر ہوتے ہیں۔ عاصم عبدالماجد نے مطالبہ کیا کہ الاخوان کے رہ نماؤں پر لازم ہے کہ وہ علانیہ طور پر اپنی اس غداری سے براءت کا اظہار کریں اور صدر ایردوآن سے معافی مانگیں۔ اس لیے کہ السعادات سے ان رہ نماؤں کے تعلق نے ترکی حکومت اور انٹیلی جنس کو پریشانی میں ڈال دیا۔