.
سعودی معیشت

سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر ڈرون حملے سے تیل کی سپلائی متاثر نہیں‌ ہوئی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاض میں آئل ریفائنری پر حملے سے مملکت میں تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی اور اس حملے میں‌کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔

زارت توانائی کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ جمعہ کی صبح 6 بجکر 5 منٹ پر ریاض میں آئل ریفائنری پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق اس حملے میں تیل کی رسد متاثر نہیں ہوئی۔

وزارت توانائی نے زور دیا کہ مملکت اس بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتوں میں دشمن عناصر بار بار اہم تنصیبات اور سویلین شہریوں کو اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا نشانہ بنانے کا مرتکب ہو رہےہیں۔ اس طرح کی تخریب کاری راس تنورا ریفائنری اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی کوششیں تیل کی عالمی رسد کو نشانہ بنانا اور سعودی عرب کی عالمی سلامتی کو خطرمیں ڈالتے ہوئے سعودی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔