.

مسجد نبویﷺ میں ماہ صیام کے دوران نماز تراویح کی ادائی کے لیے پلان تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے کل جمرات کے روز 'ماہ صیام برائے سال 1442ھ' کے لیے مسجد نبویﷺ میں نماز ترویح کی بحالی کی خاطر 'مسجد نبوی پریذی ڈینسی ایجنسی' کا پلان منظور کیا ہے۔

مسجد نبویﷺ میں نماز تراویح کے پلان کی منظوری کے موقعے پر الشیخ عبدالرحمان السدیس نے کرونا وبا کے خلاف احتیاطی تدابیر پرسختی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مسجد نبوی میں عبادت ، نماز اور زائرین کی آمدو رفت کو بحال کیا جا سکے اور وبا کو شکست دینے کی کامیابیوں سے ثمرات سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھایا جاسکے۔

ماہ صیام کے لیے مسجد نبوی میں عبادت کے خصوصی پلان میں رمضان معلوماتی پروگرام، خصوصیات ، پیشرفت ، پروگرام ، اہداف ، متبادل ، ہنگامی صورتحال اور رمضان کے مہینے اور عید الفطر تک کرائسز سیل کا قیام بھی شامل ہے۔

مسجد نبویﷺ میں نماز تراویح اور رمضان کے پروگرامات کو موجودہ کرونا وبائی صورت حال اور محکمہ صحت کی وضع کردہ ہدایات کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے۔ مسجد میں زائرین کی نقل وحرکت، مجمع، با جماعت نمازوں کے طریقہ کارکو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

کرونا وبا کے پیش نظر مسجد نبویﷺ میں 45000 نمازیوں کی با جماعت نماز کی اجازت دی گئی ہے۔ مسجد کے مغربی حصے میں 15000 نمازیوں کو داخل ہونے جب کہ ماہ صیام میں مجموعی طور پر ایک ہی وقت میں 60 ہزار نمازیوں کو مسجد نبوی میں‌نماز کی ادائی کی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ کرونا وبا سے قبل مسجد نبویﷺ میں ایک ہی وقت میں تین لاکھ 50 ہزار افراد کو با جماعت نماز کی ادائی کی اجازت تھی اور مغربی حصے میں 96 ہزار افراد با جماعت نماز ادا کرتے تھے۔