.

سعودی وزیر صحت کے ساتھ 'کرونا' کے حوالے سے کیا دردناک واقعہ پیش آیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے جمعہ کے روز 'ٹویٹر' پر ایک المناک واقعہ شیئر کیا ہے۔ اس واقعے کا تعلق کرونا کی وبا سے ہے۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ کرونا ویکسین نہ لگوانے والے ایک بزرگ کی موت کے واقعے نے انہیں دکھی کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک شہری نے انہیں بتایا کہ اس نے اپنے والد کے لیے کرونا ویکسین لگوانے کی تاریخ حاصل کی مگر ویکسین کے حوالے سے افواہیں سامنے آنے کے بعد ویکسین لگوانے میں تاخیر کر دی۔ اس کے والد کرونا کا شکار ہوگئے جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔

ڈاکٹر توفیق الربیعہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے مجھے بہت صدمہ پہنچایا ہے۔ میرا بس چلے تو میں ایک ایک شخص کو ویکسین لگوانے کے لیے قائل کروں۔ میں تمام شہریوں سے اپنے دل سے کہتا ہوں کہ وہ ویکسین لگوائیں اور ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن افواہوں پر کان نہ دھریں۔

جمعرات کے روز سعودی وزارت صحت نے بتایا تھا کہ مملکت میں کرونا ویکسین کے 500 مراکز قائم ہیں اب تک 26 لاکھ سےزاید افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

وزات صحت نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ویکسین لگوانے کے لیے 'صحتی' ایپ کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کرائیں۔

ادھر سعودی وزارت صحت کے مطابق کل جمعہ کو مملکت میں کرنا کے 391 نئے کیسز سامنے آئے جب کہ 263 صحت یاب ہوئے۔ مملکت میں اس وقت کرونا کے فعال کیسز کی تعداد 3811 ہے جن میں سے 574 کی حالت تشویشناک ہے۔

سعودی عرب میں کرونا کے کل متاثرین کی تعداد 3 لاکھ 84 ہزار 271 ہوگئی جن میں سے تین لاکھ 73 ہزار 864 صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ کرونا سے کل 6596 اموات ہوئی ہیں۔