.

شام: سرحدی شہر القصیر میں اراضی کی جبری فروخت کے لیے حزب اللہ کا دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حزب اللہ کی جانب سے لبنانی شامی سرحد پر کنٹرول کی نئی کوشش کے سلسلے میں ایران نواز ملیشیا شام کے شہر القصیر میں مزید اراضی خریدنے کے لیے دباؤ ڈالنے رہی ہے۔ یہ اراضی حمص صوبے میں دریائے عاصی کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔

شہر میں شامی حکومت کے ہمنوا عناصر نے شکایت کی ہے کہ حزب اللہ کے ارکان ان پر اور متعدد کاشت کاروں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنی زمینیں بیچ دیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق شامی حکومت کی وفاداری کے حوالے سے معروف ایک خاندان کے کاشت کار نے بتایا کہ اسے حزب اللہ کے حمایتیوں کی جانب سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ کاشت کار نے دریائے عاصی کے کنارے اپنی وہ زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا جس کے ذریعے وہ روزی کماتا ہے۔ مسلح افراد کبھی اس کو حراست میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی اس کے کھیت پر چھاپا مار کر پورے گھرانے کو ڈراتے دھمکاتےہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق بشار حکومت کے ہمنوا عناصر جنہوں نے شامی حکومت کے شانہ بشانہ لڑائی میں حصہ لیا یا جنگ کے دوران کوچ نہیں کیا، ان کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا نے ان پر شب خون مارا ہے۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کے شامی مرکز المرصد نے ایک ہفتہ قبل بتایا تھا کہ ایران نواز ملیشیائیں شام لبنان سرحد پر واقع علاقے الزبدانی میں اب تک 165 سے زیادہ زمینیں جب کہ الطفیل کے علاقے میں کم از کم 250 زمینیں خرید چکی ہیں۔

المرصد کے مطابق ان ملیشیاؤں نے بلودان اور اس کے نزدیک واقع علاقوں میں مہنگے اپارٹمنٹس اور بنگلے ضبط کر لیے ہیں۔ اس طرح اب تک 97 اپارٹمنٹس میں ملیشیاؤں کے گروپ ڈیرہ ڈال چکے ہیں۔ ان کو حزب اللہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔