.

انتخابات سے 3 روز قبل نیتن یاہو کے خلاف ہزاروں اسرائیلیوں کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں اسرائیلیوں نے ہفتے کے روز وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیام گاہ کے باہر بڑا مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ نیتن یاہو اپنے منصب کو چھوڑ دیں۔ واضح رہے کہ یہ مظاہرہ عام انتخابات سے 3 روز قبل کیا گیا۔ دو سال کے دوران میں یہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے لیے ہونے والے چوتھے انتخابات ہیں۔

مظاہرے میں شامل احتجاجیوں نے ہاتھوں میں اسرائیلی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ وہ ڈھول اور گاڑیوں کے ہارن بجاتے ہوئے ان سڑکوں پر گامزن تھے جن کو پولیس نے بند کر دیا تھا۔ اس دوران 71 سالہ وزیر اعظم کی سبک دوشی کے مطالبے کے نعرے لگائے جاتے رہے۔

حالیہ مظاہرہ گذشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے نیتن یاہو مخالف دیگر احتجاجوں سے بڑا تھا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ہفتے کو ہونے والے احتجاج میں تقریبا 20 ہزار مظاہرین شریک تھے۔

توقع ہے کہ نیتن یاہو کی جماعت "لیکوڈ پارٹی" منگل کے روز مقررہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کر لے گی۔ تاہم سروے رپورٹوں میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ نیتن یاہو کی جماعت پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کے ساتھ اکیلے حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ گذشتہ تین انتخابات میں بھی یہ ہی معاملہ دیکھا جاتا رہا ہے۔

حالیہ عرصے میں وزیر اعظم نیتن یاہو پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ انہیں بدعنوانی کے الزام میں عدالتی کارروائی کا بھی سامنا ہے۔ علاوہ ازیں نیتن یاہو کے مخالفین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل میں کرونا کے بحران سے متعلق انتظامی امور میں بد انتظامی کے ذمے دار ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم کو رشوت لینے اور امانت میں خیانت کے ارتکاب جیسے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ تاہم نیتن یاہو ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے رہے ہیں۔