.

سیستان و بلوچستان صوبے میں دھماکے سے 1 ہلاک اور 3 زخمی : ایرانی پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پاسداران انقلاب نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان اور بلوچستان میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

سرکاری چینل "العالم" نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ دھماکا "دہشت گرد" کارروائی ہے۔

گذشتہ ماہ 23 فروری سے صوبے میں وسیع پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ احتجاج پاسداران انقلاب کی فائرنگ سے تقریبا 10 افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہوا۔

بعد ازاں بلوچستان میں سراوان میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی عمارت کے سامنے بڑے احتجاج شروع ہو گئے۔ احتجاجیوں نے عمارت پر قبضہ کر لیا۔ مظاہرین پاکستان کی سرحد کے راستے ایندھن کی اسمگلنگ اور فروخت سے روکے جانے پر سراپا احتجاج تھے۔

ایران میں ایندھن کی قیمتیں دنیا بھر میں کم ترین نرخوں میں سے ہیں۔ ایرانی حکام ملک بالخصوص غریب صوبے سیستان و بلوچستان سے پڑوسی ممالک کو ایندھن کی اسمگلنگ کا سلسلہ روکنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس صوبے میں طویل عرصے سے ایندھن کے غریب اسمگلر اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک مقامی شہری کا کہنا ہے کہ ایرانی ذمے داران نے ماضی میں تھوڑی مقدار میں اسمگلنگ کو نظر انداز کیوں کہ یہ بے روز گاری کی بڑھتی شرح سے متاثرہ مقامی آبادی کے لیے آمدنی کا ایک ایک ذریعہ تھا۔ تاہم حالیہ عرصے میں حکام نے کنٹرول سخت کر دیا ہے۔