.

'داعشی'جنگجووں کے بچوں‌ نے 'العربیہ' کی ٹیم کے ساتھ کیا برتاو کیا؟

الھول کیمپ کے دورے کے دوران چینل کی نامہ نگار کو'کافر' قرار دیا، ٹیم پر سنگ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی شام میں قائم 'الہول' پناہ گزین کیمپ میں زیادہ تر 'داعش' سے منسلک خاندانوں اور ان کے افراد کو رکھا گیا ہے۔ العربیہ کی نامہ نگار 'رولا الخطیب' نے الہول پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں پر پناہ گزینوں‌کے حالات جاننے کی کوشش کی تو حسب توقع العربیہ کی نامہ نگارکو وہاں پر سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کیمپ میں داخل ہوتے ہی انہیں 'آپ کافر ہیں'، 'ہم آپ کو قتل کردیں گے' ہم آپ کو ذبح کریں گے' جیسے الفاظ سننا پڑے۔

العربیہ کی نامہ نگار رولا الخطیب نے سیاہ فام خواتین سے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے خواتین سے پوچھا کیا آپ اپنے بچوں کو اسکول بھیجتی ہیں؟ کیا یہاں کوئی اسکول ہے؟ مگر اسے کوئی جواب نہیں ملا۔پھر وہ ایک اور عورت کے پاس پہنچی جو کچھ گوشت پیس رہی تھی۔ اس سے پوچھا یہ نوکری ہے؟ کیا آپ کام کر رہی ہیں؟ اسے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

"العربیہ" کی نامہ نگار نے کیمرہ ٹیم کے ہمراہ الہول کیمپ کا دورہ کیا تاکہ جنگجووں کے خاندانوں کے حالات کے بارے میں جان کاری حاصل کی جا سکے۔

اس نے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ "آپ کہاں سے ہیں؟" انہوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ رولا نے ایک بچی جو اپنے چھوٹے بھائی کو اٹھائے کھڑی تھی سے پوچھا کہ کیا آپ اسکول جارہی ہیں؟ لڑکی نے صرف اتنا کہا 'نہیں'۔ "العربیہ" کی نامہ نگار نے کیمپ کے اندر دورہ جاری رکھا۔ اس نے بچوں سے بات کرنے کی کوشش کی اور پوچھنا شروع کیا کہ تم میرے سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیتے؟ تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرنا چاہتے ہو"۔ ان میں سے بعض بچے زیادہ سے زیادہ چار سال کی عمر کے تھے۔ انہوں نے غیر متوقع ردعمل ظاہر کیا۔ بچوں نے اسے کافر کہا اور دھمکی دی کہ وہ اسے قتل کریں گے۔ اس پر اس نے ان سے پوچھا ، "میں کافر کیوں ہوں؟ ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ تم نے حجاب نہیں پہنا ہے۔ ایک اور نے جواب دیا: "تم بہنوں کو مار رہے ہو!"

رولاالخطیب نے ان بچوں سے کہا کہ اس کے پاس تو ہھتیار نہیں۔ میں بہنوں کو کیسے ماروں گی۔؟ بچوں میں سے ایک نے جواب دیا آپ کے پاس بندوق ہے۔ پھر پتہ چلا کہ وہ مائیک کو بندوق کہہ رہا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ ایک ہتھیار ہے۔

جب "العربیہ" کی رپورٹر نے بچوں کو بتایا کہ وہ ان کی مدد کے لیے آئی ہے تو ایک بچے نے کہا کہ ہمیں آپ کی مدد نہیں چاہیے۔ پہلے جا کر حجاب پہنیں یعنی سیاہ برقعہ پہن کر آئیں۔

اس پر رولا الخطیب نے ان سے کہاکہ اگر وہ حجاب نہ پہنیں تو وہ اس اس کے ساتھ کیا سلوک کریں‌ گے۔ اس پر داعشی بچوں کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو ذبح کردیں گے اور قتل کردیں گے۔ ایسے لوگوں کو ہم کافر سمجھتے ہیں۔ اس نے ابھی مزید بچوں سے گفت وشنید کرنا تھی مگر العربیہ کی ٹیم پر سنگ باری شروع ہوگئی اور انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔