.

اقوام متحدہ کا یمن کے لیے سعودی عرب کے امن منصوبے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے یمن میں جاری جنگ کے پرامن انداز میں خاتمے کے لیے نیا امن منصوبہ پیش کرنے پر عالمی برادری کی طرف سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی سعودی عرب کے اس اعلان کو یمن میں‌جاری کئی سالہ جنگ کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے سوموار کی شام کوایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تنظیم یمن جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی امن اقدام کا خیرمقدم کرتی ہے اور یہ اقدام اقوام متحدہ کی کوششوں کےعین مطابق ہے۔

اس سے قبل آج سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا تھا کہ مملکت نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں ملک گیر جنگ بندی اور فضائی اور سمندری خطوط کو دوبارہ کھولنے سمیت یمن میں حل کے لئے پہل کی ہے۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے سوموار کو دارالحکومت الریاض میں ایک نیوزکانفرنس میں اس امن تجویز کے خدوخال بیان کیے ہیں۔اس کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمن بھر میں جنگ بندی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایاکہ’’اس امن اقدام کے تحت یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان سیاسی مذاکرات بحال کیے جائیں گے۔ہم اس امن منصوبہ پر عمل درآمد کے لیے عالمی برادری ،اپنے شراکت داروں اور یمنی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ہم حوثیوں کو مذاکرات کی میز پرلانے اور انھیں ہتھیارڈالنے پرآمادہ کرنے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے کیونکہ ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ لڑائی کے خاتمے اور بحران کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کرنے ہی سے پیش رفت کی جاسکتی ہے۔‘‘

شہزادہ فیصل کہا کہ ’’ اگر دونوں فریق اس ڈیل سے متفق ہوجاتے ہیں تو صنعاء کے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے یمن میں ایندھن اور خوراک کو درآمد کیا جاسکے گا۔