.

لبنان میں سبسڈائزڈ اشیاء کی خریداری پر شہریوں کے درمیان جھگڑوں کا سلسلہ جاری !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں معاشی اور اقتصادی بحران کے بیچ لوگوں کے درمیان سبسڈائزڈ اشیاء اور سامان پر لڑائی جھگڑا معمول بن چکا ہے۔ یہ سبسڈی ریاست کی جانب سے دی گئی ہے۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک وڈیو گردش میں آ رہی ہے۔ وڈیو میں ایک سپر مارکیٹ کے اندر کھانا پکانے کا سبسڈائزڈ آئل خریدنے پر شہریوں کے درمیان شور شرابہ اور ہنگامہ دیکھا جا سکتا ہے۔

وڈیو کے حوالے سے بڑی تعداد میں تبصرے سامنے آئے ہیں۔ ایک تبصرے میں کہا گیا ہے "سبسڈائزڈ اشیاء کا ڈرامہ، شہریوں کی تذلیل اور سرکار کی خاموشی کا سلسلہ جاری ہے !!!

یہ سب ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب کہ لبنانی عوام شدید غذائی بحران اور دکانوں اور سپر مارکیٹوں سے سبسڈائزڈ اشیاء کے فقدان سے دوچار ہیں۔

یاد رہے کہ لبنان میں اکتوبر 2019ء میں بھرپور عوامی احتجاجی تحریک دیکھی گئی تھی۔ یہ مظاہرے کئی ماہ تک جاری رہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ملک میں سیاسی اشرافیہ کو بدعنوانی اور دیرینہ بحرانات حل کرنے میں قاصر رہنے کے سبب مکمل طور پر تبدیل کر دیا جائے۔ اس دوران وزیر اعظم سعد حریری کی اس وقت کی حکومت کا سقوط ہو گیا۔ اس کے بعد حسان دیاب کی سربراہی میں " ٹیکنوکریٹس" کی حکومت بھی ناکام ہو گئی۔ بیروت کی بندرگاہ پر خوف ناک دھماکے کے بعد حکومت مستعفی ہو گئی۔ اس دھماکے کے نتیجے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک اور بیروت شہر کا وسیع حصہ تباہ ہو گیا تھا۔

طویل انتظار کے بعد اکتوبر 2020ء میں لبنانی صدر میشیل عون نے ایک بار پھر سعد حریری کو نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمے داری سونپی۔

لبنان میں آج پورا سیاسی طبقہ باہمی طور پر دست و گریباں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب تک کوئی بھی حکومت ضروری اصلاحات کرنے پر قادر نہیں۔ عالمی برادری نے لبنان کی مالی سپورٹ کے لیے مذکورہ اصلاحات کے اجرا کی شرط رکھی ہے۔ یہ مالی سپورٹ ملک کو اقتصادی زمین بوسی کے منجدھار سے باہر لانے میں مدد گار ثابت ہو گی۔

رواں ماہ کے اوائل میں لبنان میں مقامی کرنسی لیرہ کی قیمت میں ریکارڈ کمی پر ایک بار پھر عوامی احتجاج سامنے آیا۔ آج منگل کے روز بلیک مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت 15 ہزار لیرہ سے تجاوز کر گئی۔ اس سے قبل یہ قیمت بتدیج 11 ہزار کے لگ بھگ نیچے آ گئی تھی۔

حالیہ دنوں کے دوران میں کرنسی کے تبادلہ نرخ میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کے سبب لبنان میں متعدد بڑے تجارتی مراکز نے اپنے دروازے بند کر لیے تا کہ اشیاء اور سامان کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کیا جائے۔ اسی طرح کارخانوں نے تبالہ نرخ کے استحکام کے انتظار میں پیداوار روک دی ہے۔ دکانوں پر شہریوں کے درمیان سبسڈائزڈ اشیاء کی خریداری پر آئے دن جھگڑے دیکھے جا رہے ہیں۔