.

لبنان کی حکمراں اشرافیہ نئی حکومت کی تشکیل کا عمل تیزکرے:سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی حکمراں اشرافیہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق پررکھ دے اور جلد سے جلد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل تیز کرے۔

یہ بات بیروت میں متعیّن سعودی سفیرولید بخاری نے منگل کے روزلبنانی صدر میشال عون سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے لبنان کے اعلیٰ قومی مفادات کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں جن کے نتیجے میں عالمی برادری کا لبنان پراعتمادبحال ہو۔‘‘

ولید بخاری نے لبنانی عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ’’سعودی عرب نے ہمیشہ لبنان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کیا ہے اور اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔لبنان کے بارے میں سعودی ویژن اس کی خارجہ پالیسی پرمبنی ہے۔وہ اس کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے اورکسی ملک کےداخلی امور میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔‘‘

قبل ازیں لبنانی صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میشال عون اور سعودی سفیر نے لبنان میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

واضح رہے کہ لبنانی صدر اور نامزد وزیراعظم سعدالحریری کے درمیان نئی کابینہ کی ہیئت ترکیبی کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔صدرعون اپنے اور اپنی جماعت فری پیٹریاٹک موومنٹ کے لیے ویٹواختیار کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ سعدالحریری کا کہنا ہے کہ وہ صرف آزاد ماہرین پر مشتمل حکومت کا سربراہ بننا چاہتے ہیں۔

عالمی برادری نے لبنان کو درپیش بدترین مالیاتی بحران سے نکالنے کے لیے نرم قرضوں اور گرانٹس کی شکل میں اربوں ڈالرز کی امداددینے کے وعدے کیے ہیں لیکن اس کی یہ شرط عاید کی ہے کہ لبنان میں کثیرجہت اصلاحات کے لیے آزاد ماہرین پر مشتمل حکومت قائم کی جائے۔یہ حکومتوں ملک میں عشروں سے جاری بدانتظامی اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے اصلاحات کو عملی جامہ پہنائے۔تاہم اب تک صدرمیشال عون اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اس مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔