.

مملکت کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کا نشانہ عالمی معیشت ہے : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی کابینہ نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ "سعودی عرب میں اہم تنصیبات اور شہری مقامات کے خلاف بار بار ہونے والی دہشت گرد اور تخریبی کارروائیاں صرف مملکت کو نہیں بلکہ توانائی کی عالمی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ یہ بین الاقوامی قوانین اور عُرف کی خلاف ورزی ہے"۔ کابینہ نے عالمی برادری اور تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف کھڑے ہوں اور ان پر عمل درامد کرنے اور انہیں سپورٹ کرنے والے تمام فریقوں پر روک لگائیں"۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ موقف منگل کے روز ہونے والے کابینہ کے ورچوئل اجلاس میں سامنے آیا۔ اجلاس کی صدارت سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کی۔ کابینہ نے کہا کہ "یمن میں بحران کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کا مجوزہ منصوبہ اس بات کا عکاس ہے کہ مملکت ،،، یمن اور خطے میں امن و استحکام کی خواہش مند ہے۔ ساتھ ہی وہ برادر یمنی عوام کو درپیش انسانی مصائب سے نجات دلانا چاہتی ہے"۔

کابینہ نے زور دیا کہ "سعودی عرب کو اس بات کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایران نواز حوثی ملیشیا کے منظم حملوں کے خلاف اپنی سرزمین، شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کا دفاع کرے۔ مملکت خطے میں ایران کی مداخلتوں کو یکسر مسترد کرت ہے جن کے سبب یمن کا بحران طویل ہو گیا۔ ایران میزائلوں اور ہتھیاروں کے ذریعے حوثیوں کی سپورٹ کر رہا ہے۔ یہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں کی خلاف ورزی ہے"۔

سعودی کابینہ نے مشرقی بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی املاک کا انہدام کا سلسلہ جاری رہنے کی مذمت کی۔ کابینہ کے مطابق سعودی عرب تمام سیاسی اور اقتصادی حوالوں سے مسئلہ فلسطین کی حمایت جاری رکھے گا۔

کابینہ کے اجلاس میں مملکت کی اور عالمی سطح پر کرونا وائرس کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی کوششیں بھی زیر بحث آئیں جن کا مقصد شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کی صحت و سلامتی کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔