.

'لائٹ آف ریاض' ایونٹ میں سعودی فن کاروں کی جدّت طرازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں "نور الریاض" یعنی 'لائٹ آف ریاض' کے عنوان سے 17 روزہ آرٹ پروگرام جاری ہے۔ پروگرام کا آغاز 18 مارچ کو ہوا تھا۔ اس سلسلے میں ریاض شہر 13 مقامات پر جاری سرگرمیوں کے باعث فن پاروں کی ایک نمائش میں تبدیل ہو گیا ہے۔ پروگرام میں دنیا بھر سے 60 بڑے فن کار شریک ہیں جن میں 26 کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔

ایونٹ میں تاریخ، انجینئرنگ اور لائٹ ورکس، مجسمے، لائٹنگ شوز، انٹرایکٹو پرفارمنس، متحرک تصاویر، آؤٹ ڈور ورکس اور متعدد لائٹ آرٹ فارم شامل ہیں۔

اس حوالے سے جن سعودی فن کاروں کا نمایاں کام سامنے آیا ہے ان میں احمد عنقاوی، ڈاکٹر احمد ماطر اور خاتون فن کارہ لولوہ الحمود شامل ہیں۔

لائٹ آف ریاض کے ایونٹ میں "طویق بین الاقوامی مجسمہ سازی فورم" شامل ہے۔ فورم کے اس تیسرے ایڈیشن میں دنیا بھر سے 20 مجسمہ ساز شریک ہیں۔

'لائٹ آف ریاض' کے اس ایونٹ کا مقصد لوگوں کے دلوں میں امید کی کرن پیدا کرنا اور انہیں محبت، بھلائی اور دوستی کے نام پر اکٹھا کرنا ہے۔ بالخصوص جب کہ کرونا کی عالم گیر وبا نے لوگوں کے اندر مایوسی پھیلا رکھی ہے۔