.

اسد رجیم کی لبنان کو آکسیجن کی فراہمی کے بعد شام کے اسپتالوں میں قلت

بشار الاسد آکسیجن لبنان اور کرونا متاثرین کو دمشق سے باہر منتقل کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ایک طرف کرونا کی وبا نے تباہی پھیلا رکھی ہے اور دوسری طرف اسد رجیم نے اپنے عوام کو وبا سے بچانے کے بجائے لبنانی حزب اللہ پر نوازشات کرتے ہوئے اسپتالوں کو فراہم کیے جانے والے آکسیجن کی بڑی مقدار لبنان منتقل کرنا شروع کی ہے۔
چند روز قبل اسد رجیم کی طرف سے ملک میں کرونا وبا کے غیر معمولی پھیلائو کی وارننگ کے ساتھ ساتھ شہریوں کو سخت حفاظتی تدابیر اپنانے کی تاکید کی گئی تھی۔

اس اعلان کے چھ روز بعد اسد رجیم کی وزارت صحت نے بتایا کہ دمشق کے اسپتالوں میں کرونا کے زیر علاج مریضوں میں انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی تعداد 100 فی صد تک پہنچ چکی ہے اور دارالحکومت کے اسپتالوں میں مزید مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ختم ہوچکی ہے۔ دمشق میں مزید مریضوں کی گنجائش ختم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں کرونا کے متاثرین کو شام کے دوسرے شہروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ دمشق سے باہر کرونا مریضوں کی منتقلی کی ایک بڑی وجہ دارالحکومت کے اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت بھی ہے۔

دمشق میں کرونا مریضوں کے لیے آکسیجن کی کمی کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری طرف اطلاعات ہیں اسد رجیم نے اپنے شہریوں‌کو وبا سے بچانے میں مدد فراہم کرنے کے بجائے آکسیجن کی وافر مقدار لبنان کو منتقل کرنا شروع کی ہے۔

لبنانی وزیر صحت حمد حسن جن کا تعلق شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے ہے، نے آکسیجن کی فراہمی پر اسد رجیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے کرونا وبا سے بچائو میں مدد کے لیے لبنان کو آکسیجن فراہم کر کے لبنان کو وبا سے بچا لیا ہے۔

احمد حسن کا کہنا ہے کہ شام نے موجودہ وبا کے دنوں‌میں بیروت کو 25 ہزار ٹن آکسیجن فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بیان دمشق کے دورے کے دوران دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد نے بیروت کو 25 ہزار ٹن آکسیجن فراہم کرنے کی یقینی دہانی کرائی ہے۔

اس حوالے سے العربیہ نے شامی شہریوں سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اسد رجیم کی طرف سے اپنے شہریوں کو محروم کر کے لبنان پر نوازشات حیرت کی بات نہیں۔ حمص سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے العربیہ ڈاٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رجیم کی جانب سے بحرانوں میں عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے پہلے بھی اس طرح‌ کے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ مگر اسد رجیم کے ان اقدامات کی قیمت شامی عوام کو بھگتنا پڑتی ہے۔

خیال رہے کہ شام میں کرونا وبا کے نتیجے میں اب تک 16 ہزار 776 کیسز سامنے آچکے ہیں جب کہ ایک ہزار سے زاید اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔