.

آمالا: سعودی عرب میں 100 نایاب درختوں کو محفوظ بنانے کا منفرد منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بحر الاحمر ڈویلپمنٹ کمپنی کے قدرتی ماحول کو تحفظ دینے کے 4155 مربع کلو میٹر رقبے پر محیط پروگرام'آمالا' نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مملکت میں معدومیت کے خطرے سے دوچار ایک سو نایاب درختوں کو تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اقدام میں 'آمالا' کو 'تبوک گرین رابطہ گروپ' کا بھی تعاون حاصل ہے۔ آمالا ہوائی اڈے کی ٹیم نے تبوک رابطہ گروپ کے تعاون سے ایک سو نایاب اور قیمتی درختوں کو تحفظ فراہم کرنے کا پروگرام تیار کیا ہے۔ مقامی سطح پر اس نایاب درخت کا نام' السنط الملتوی' یا 'السمر' لیا جاتا ہے اور اس قسم کے 80 فی صد پودے ایک سو سال تک بوڑھے نہیں ہوتے۔ آمالا کے پروگرام کے تحت متاثرہ درختوں کا ایک سروے کیا گیا اور اس نوع کے 133نئے درخت لگائے گئے اور انہیں سعودی عرب میں قدرتی انداز میں پروان چڑھانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں 'آمالا'میں پروجیکٹ کی ترسیل کے سربراہ ڈیوڈ واٹکنز نے' العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ ضبا کے علاقے میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں السمر کے 100 درخت متاثر ہوئے۔ یہ درخت وادی داما، وادی طلیح، وادی عین الزرقا اور دوسری وادیوں میں پائے جاتے ہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ قدرتی ماحول کے تحفظ کے ایک کارکن کی حیثیت سے ان درختوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری پہلی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آمالا کی ٹیم اور اس کے ٹھیکیداروں نے تبوک گرین رابطہ گروپ کے ساتھ مل کر رضا کارانہ سماجی مہم شروع کی تاکہ خطے میں موجود اس حیاتیاتی اور ثقافتی ورثے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس دوران سیکڑوں سال پرانے سمر کے متاثرہ 133 درختوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔


'آمالا' پروجیکٹ کے انجینیر محمد الھذیلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں سب سے اہم عنصر وقت ہے۔ اگر قیمتی اور نایاب درختوں کو موسم کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے تو ان کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔