.

سعودی عرب علاقائی اور بین الاقوامی امور میں اہم کردار ادا کر رہا ہے: چینی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے خطے میں 13 ممالک کے ساتھ تعلقات کو تزویراتی شراکت داری کی سطح تک بلند کر دیا ہے۔ اس طرح چین مشرق وسطی کے ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ان ممالک میں سرمایہ کاری کا مرکزی شراکت دار بن گیا ہے۔ یہ بات انہوں نے العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی۔

مشرق وسطی میں شورش زدہ حالات کے حوالے سے چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطی کو انارکی سے نکال کر امن تک پہنچانے کا بنیادی راستہ یہ ہے کہ خطے کو بڑے ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاست کے تناؤ سے پاک کیا جائے۔ وانگ یی نے مشرق وسطی کے لیے 5 نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا۔ یہ منصوبہ متبادل احترام، انصاف کی پاسداری، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کو یقینی بنانے، اجتماعی امن پر کام کرنے اور ترقی اور تعاون کی رفتار تیز کرنے پر قائم ہے۔

وانگ یی کے مطابق چین نے مشرق وسطی میں 19 ممالک کے ساتھ تعاون کی دستاویزات پر دستخط کے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ نے یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے امن منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اپنے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے حوالے سے وانگ یی کا کہنا تھا کہ "سعودی عرب عرب اور اسلامی دنیا کی ایک اہم ریاست اور دنیا میں توانائی پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔ حالیہ برسوں میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں معیشت کے تنوع اور سماجی اصلاحات پر کام کیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب بین الاقوامی اور علاقائی امور میں زیادہ اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گذشتہ برس سعودی عرب نے جی ٹوئنٹی گروپ کا ورچوئل اجلاس کامیابی سے منعقد کیا۔ تقریبا 31 برس قبل چین اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے قیام کے بعد سے ان میں جامع پیش رفت اور ترقی دیکھنے میں آئی ہے"۔

سعودی عرب دنیا بھر میں چین کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک اور کئی برس سے مغربی ایشیا اور شمالی افریقا میں چین کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ خطے میں چین کے لیے انجینئرنگ ٹھیکوں کی سب سے بڑی منڈی ہے۔

وانگ یی نے مزید بتایا کہ گذشتہ برس کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد چین اور سعودی عرب کے درمیان امدادات کا تبادلہ ہوا۔ سعودی عرب نے بڑے پیمانے پر چین کو ہنگامی امدادات فراہم کیں اور چین نے فوری طور پر مملکت کو طبی لوازمات پیش کیے۔ کرونا کی وبا سے نمٹنے کے دوران میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک نیا باب رقم ہوا۔

چینی وزیر خارجہ کے مطابق 2020ء میں چین اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم 160 ارب ریال سے زیادہ رہا۔ اس طرح چین خلیج تعاون کونسل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ اس وقت چین اور عرب دنیا کے بیچ تجارتی حجم تقریبا 240 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

انسداد دہشت گردی کے حوالے سے چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں چین اور عرب ممالک کو اپنی کوششیں یکجا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے انتظامی امور ان پر عمل درامد سے متعلق تجربوں کا تبادلہ ہونا چاہیے۔

وانگ یی کے مطابق چین نے 17 عرب ممالک کو کرونا وائرس کی 1.7 کروڑ سے زیادہ خوراکیں برآمد کیں۔ اس اقدام سے کرونا کی وبا کے خلاف معرکے میں عرب ممالک کو بھرپور سپورٹ ملی۔

چین میں مسلم اقلیت کی صورت حالے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ "سنکیانگ صوبے میں مسائل کی نوعیت دہشت گردی، تشدد اور علاحدگی پسندی کے انسداد سے متعلق ہے۔ مسلسل چار سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب سنکیانگ میں دہشت گردی کا کوئی شدید واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس طرح عوام حقیقی امن محسوس کر رہے ہیں"۔

وانگ یی کے مطابق سنکیانگ میں سالانہ اقتصادی نمو کی اوسط شرح 6.1% ہو گئی ہے۔ سال 2018ء میں صوبے میں ایگور اقلیت کی آبادی 25% اضافے کے ساتھ تقریبا 1.27 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ سنکیانگ میں ایگوری اور چار دیگر زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ چین میں فلسطینی سفیر نے سنکیانگ کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ "ایک سڑک پر کئی مساجد موجود ہیں"۔ چینی وزیر خارجہ نے استفسار کیا کہ یہ "مذہبی کریک ڈاؤن" کی بات کہاں سے آئی ہے؟ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران سنکیانگ صوبے میں روزگار کے تقریبا بیس لاکھ مواقع فراہم کیے گئے۔ صوبے میں تمام اقوام کی ثقافت اور زبان کو برقرار رکھا گیا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ایگوری زبان اور دیگر 10 علاقائی اقلیتوں کی زبانوں کا عدلیہ، انتظامیہ، تعلیم اور میڈیا وغیرہ میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ چینی کرنسی پر ایگوری اور 5 دیگر زبانوں کو چھاپا گیا ہے۔

ہانگ کانگ کے حالات کے حوالے سے چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ "چینی پارلیمنٹ نے کچھ عرصہ قبل ہانگ کانگ میں انتخابی نظام کی تکمیل کے حوالے سے ایک فیصلہ کیا ہے۔ ہانگ کانگ چین کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے لہذا ہانگ کانگ میں انتخابی نظام چین کے لیے ایک مقامی انتخابی نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ پارلیمنٹ کے فیصلے کی بنیاد یہ ہے کہ ہانگ کانگ کی حکومت محب وطن عناصر کے ہاتھ میں ہو۔ محب وطن سے مراد یہ کہ وہ وطن کے ساتھ وفادار اور مخلص ہوں۔ البتہ محب وطن عناصر کی حکومت کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اپوزیشن کی آوازوں کو ختم کر دیا جائے۔ ہانگ کانگ کی حکومت پر نظر رکھنے کے علاوہ اس پر تنقید بھی کی جا سکے گی"۔