.

لبنان میں خوراک کی قیمتیں مینا کے خطے میں سب سے زیادہ : عالمی بنک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں افراطِ زر کی شرح میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔اس کی وجہ سے ملک میں اشیائے خوراک کی قیمتیں مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا کے خطے میں سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔

عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنان کو اس وقت بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔کرونا وائرس کی وبا سے اس کو مزید مہمیز ملی ہے اور اشیائے خوراک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔بنک کے ایک تقابلی جائزے کے مطابق 14 فروری 2020ء سے 8 مارچ 2021ء تک خوراک کی ہرنوع کی اشیاء کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

لبنانی اخبار دا ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق 2020ء میں ملک میں افراط زر کی شرح میں 85 فی صد اضافہ ہوا ہے۔1992ء کے بعد افراط زر کی یہ سب سے زیادہ شرح ہے۔لبنان میں2020ء کے اختتام تک افراط زر کی شرح 145۰8 فی صد تک بڑھ چکی تھی۔

عالمی بنک نے خطے کے 19 مختلف ممالک میں خوراک کے پانچ زمروں میں قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔اس نے ایک رپورٹ میں نشاستہ دار اغذیہ،پھل،گوشت ،ڈیری مصنوعات اور سبزیوں کی قیمتوں کے درمیان موازنہ پیش کیا ہے۔

لبنان میں تازہ اور منجمد بڑے گوشت کی قیمت میں جائزے کے عرصے کے دوران میں 110 فی صد اضافہ ہواہے۔مینا کے خطے میں یہ سب سے زیادہ اضافہ ہے۔اس خطے میں لبنان کے علاوہ شام اور جیبوتی ہی دو ایسے ممالک ہیں جہاں بڑے گوشت کی قیمت میں 35 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔باقی ممالک میں گوشت کی قیمت صرف 11 فی صد بڑھی ہے۔

خطے کی باقی ملکوں میں انڈوں کی قیمت میں اوسطاً 7فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ لبنان ، جیبوتی ، ایران ،شام اور یمن میں انڈوں کی قیمت میں 20 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

لبنان میں مرغی کے منجمد (فروزن) گوشت کی قیمت میں 68۰4 فی صد اضافہ ہوا ہے،آلو کی قیمت 71 فی صد سے زیادہ بڑھی ہے اور یہ خطے میں سب سے زیادہ ہے۔سیب اور مالٹے کی قیمت میں بالترتیب 58۰2 فی صد اور 58۰4 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لبنان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کااس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حالیہ بحران سے پہلے بڑی مارکیٹوں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں دن میں صرف ایک مرتبہ اضافہ کیا جاتا تھا لیکن حالیہ بحران کے دوران میں دکان دار دن میں تین تین مرتبہ قیمتیں بڑھاتے رہے ہیں۔

لبنان میں اکتوبر2019ء میں سیاسی اشرافیہ کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک شروع ہوئی تھی۔اس تحریک کا اب تک کوئی مثبت نتیجہ تو برآمد نہیں ہوسکا اور ملک کسی حکومت کے بغیر چل رہا ہے، البتہ اس عرصے کے دوران میں وہ گوناگوں اقتصادی اور سیاسی بحرانوں سے دوچار ہوچکا ہے اور گذشتہ 18 ماہ کے دوران میں لبنانی لیرا ڈالر کے مقابلے میں اپنی 90 فی صد قدر کھوچکا ہے اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی گئی ہے۔

اگست 2020ء میں اقوام متحدہ نے یہ تخمینہ ظاہر کیا تھا کہ لبنان کی 55 فی صد آبادی غُربت کا شکار ہے۔وہ نان جویں کو ترس رہی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ 2019ء کے بعد ملک میں غُربت کی شرح میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں