.

مصر:دومسافر ٹرینوں میں خوف ناک تصادم کے ایک روز بعد ریلوے ٹریفک بحال 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے جنوبی صوبہ سوہاج میں دو مسافر ٹرینوں میں خوف ناک تصادم کے ایک روز بعد ریلوے ٹریفک بحال کردیا گیا ہے۔

سوہاج میں جمعہ کو اس تباہ کن ریل حادثے میں 32 افراد ہلاک اور 185 زخمی ہوگئے تھے۔مصر کی وزیرصحت ہالا زاید نے ہفتے کے روز دارالحکومت قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے کیونکہ ابتدائی طورپر ان شدید زخمیوں کو بھی مہلوکین میں شامل کر لیا گیا تھا جن کی حالت تشویش ناک تھی یا جو بے ہوش تھے۔‘‘

اس حادثے کی ایک نئی ویڈیو بھی آج سامنے آئی ہے۔اس میں ٹرینوں کی دوبوگیاں حادثے کے بعد چُرمر ہوچکی ہیں۔راہگیراور امدادی کارکنان ڈبے کاٹ کرمرنے والوں کی نعشیں یا زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔

ریلوے حکام نے حادثے کی جگہ پر متاثرہ پٹڑی کو تبدیل کردیا ہے اور تباہ شدہ بوگیوں کو پٹڑی سے ہٹا دیا ہے۔اس کے بعد ٹرینوں کی آمد ورفت کو بحال کردیا گیا ہے۔

دونوں مسافرٹرینیں قاہرہ سے 440 کلومیٹر جنوب میں سوہاج شہر کے نزدیک واقع قصبہ طہطا میں ٹکراگئی تھیں اور ان کی دو بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔ریل حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ کسی نے ایک ٹرین کی ہنگامی بریکیں فعال کردی تھیں۔یہ ٹرین ساحلی شہر اسکندریہ کی جانب جارہی تھی۔تاہم مصری وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی کاکہنا ہے کہ ابھی تک حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

تباہ کن ریل حادثات

واضح رہے کہ مصر کا ریل نظام ازکاررفتہ اور فرسودہ ہے،ریلوے پٹڑیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور کئی سال پرانے ریلوے انجنوں اور بوگیوں سے کام چلایا جارہا ہے۔ریلوے ملازمین کی بدانتظامی اور فرائض سے غفلت اس پر مستزاد ہے۔ان عوامل کی وجہ سے آئے دن خوف ناک حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق صرف 2017ء میں ملک بھر میں 1793 ٹرین حادثات پیش آئے تھے۔

2018ء میں جنوبی شہر اسوان کے نزدیک ایک مسافر ٹرین پٹڑی سے اترگئی تھی۔اس حادثے میں چھے افراد زخمی ہوگئے تھے۔فروری 2018ء میں مصر کے شمالی صوبہ البحیرہ میں دو ٹرینوں میں تصادم میں کم سے کم 20 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔اس کے بعد حکومت نے ریلوے کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اسی سال صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا تھا کہ حکومت کو ریلوے نظام کو جدید خطوط پراستوار کرنے کے لیے قریباً ڈھائی سو مصری پاؤنڈ (14 ارب 10 کروڑ ڈالر) درکار ہیں۔ان کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی ایک مسافر ٹرین کے مال بردار ٹرین سے ٹکرانے سے 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اگست 2017ء میں اسکندریہ میں مسافرٹرین کے ایک حادثے میں41افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ نومبر 2012ء کے بعد مصر میں یہ بدترین ٹرین حادثہ تھا۔تب دارالحکومت قاہرہ سے 360 کلومیٹر جنوب میں واقع منفلوط میں ایک ریلوے کراسنگ پر بچوں کی بس سے ایک ٹرین ٹکرا گئی تھی اور اس کے نتیجے میں چار سے بارہ سال کی عمر کے 47 بچوں سمیت 52 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس حادثے کے الزام میں ریلوے کے دو ملازمین کے خلاف مقدمہ چلایا گیا تھا۔ جون 2013ء میں مصر کی ایک عدالت نے انھیں فرائض سے غفلت اور بچّوں کے قتل عام کے الزام میں قصوروار قرار دے کر دس سال قید کی سزا سنائی تھی اوران پرایک ایک لاکھ مصری پاؤنڈ جرمانہ عاید کیا تھا۔مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے یہ سزا برقرار رکھی تھی۔

مصرمیں 2002ء میں سب سے تباہ کن ریل حادثہ پیش آیا تھا اور ایک مسافر ٹرین میں آتش زدگی کے نتیجے میں 373 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔