.

ایرانی ملیشیائوں میں بھرتی سے فرار ہونے والے شامی روسی ملیشیائوں کے ہتھے چڑھ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف شام میں ایرانی رجیم اپنے اثرونفوذ کو مزید وسعت دینے لیے شامی شہریوں کو اپنی وفادار ملیشیائوں میں بھرتی کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف روس بھی اس میدان میں پیچھے نہیں ہے۔

ایران نے شمالی شام میں ترکی کے ساتھ معاہدہ کرکے ایران کو اپنی ملیشیائوں میں بھرتیوں کا موقع فراہم کیا تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے 'سیرین آبزر ویٹری' کی رپورٹ کے مطابق مشرقی دیر الزور کے نواحی علاقے المیادین سے تعلق رکھنے والے 7 شامی باشندوں کو روس کی وفادار ملیشیا 'بریگیڈ 5' میں بھرتی کیا گیا ہے۔یہ ساتوں شامی باشندے ایرانی ملیشیا 'لواء الشیخ' میں بھرتی سے فرار کے بعد مغربی فرات کے علاقے میں روس نواز عسکری گروپ میں بھرتی ہوگئے۔

شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی افواج (اے ایف پی)
شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی افواج (اے ایف پی)

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ دو شامی نوجوان مغربی فرات میں ایرانی اثرو نفوذ والے علاقے سے فرارکے بعد سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے علاقے میں آگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شامی رجیم کی 'لازمی فوجی' میں بھرتی سے فرار ہوئے ہیں۔

'لواء الشیخ' بریگیڈ کا شمار ایرانی پاسداران انقلاب کے وفادار گروپوں میں ہوتا ہے۔ چند ماہ قبل اس بریگیڈ کے سربراہ نے المیادین میں واٹر اسٹیشن کے قریب کورنیش شاہراہ پر مقامی شامی قبائل کو دعوت پر مدعو کیا تھا۔ اس موقعے پر لواء الشیخ نے مقامی شامی قبائلی رہ نمائوں کو مادی اورعسکری مدد کی پیش کش کی اور اس کے بدلے میں قبائلی نوجوانوں کو بریگیڈ میں بھرتی کرنے پر زور دیا۔

شام میں روسی افواج (اے ایف پی)
شام میں روسی افواج (اے ایف پی)