.

حرمین شریفین میں اس بار بھی ماہ صیام میں اعتکاف اور اجتماعی افطار نہیں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حرمین شریفین کی جنرل پریذیڈینسی کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے کہا ہے کہ کرونا وبا سے بچائو کی خاطر اختیار کردہ حفاظتی اقدامات میں رواں سال بھی حرمین شریفین میں اعتکاف اور اجتماعی افطار کا انتظام نہیں ہوگا۔ انہوں نے حرمین میں آنے والے نمازیوں اور زائرین معتمرین پر زور دیا کہ وہ ویکسین لازمی لگوائیں، سماجی فاصلے کے اصول پر عمل کریں، چہرے کو ماسک سے ڈھانپ کر رکھیں۔

ماہ صیام کے حوالے سے سال 1432ھ کی سالانہ 'ورچوئل' کانفرنس سے خطاب میں الشیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا کہ حرمین پریذیڈینسی نمازیوں اور معتمرین کے استقبال اور انہیں ہرممکن سہولیات کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری دانش مند حکومت نے حرمین شریفین میں آنے والے اللہ کے مہمانوں کی سلامتی اور تحفظ کے لیے تمام وسائل فراہم کیے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کے موقعے پر اجتماعی افطار اور اعتکاف نہیں ہوگا، تاہم معتمرین حضرات کے لیے صحن مطاف میں افطاری اور سحری کے لیے جگہ مختص کی جائے گی۔ اس کے لیے مسجد حرام کی مشرقی سمت میں پانچ صفیں مقرر کی گئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے کہا کہ مسجد حرام میں خدمات فراہم کرنے والے عملے میں 23 زبانوں کے مترجم بھی موجود ہوں گے جو علما اور مفتیان کرام کے بیانات کو ان زبانوں میں ترجمہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد حرام میں آنے والے زائرین کو انفرادی طور پر مکہ معظمہ گورنری کے تعاون سے افطاری کی سہولت دی جائے گی تاہم مسجد نبوی میں کہیں بھی سحری اور افطاری کی سہولت نہیں ہوگی۔