.

سعودی ولی عہد کی 'گرین مڈل ایسٹ' منصوبے پر خلیجی ممالک کی قیادت سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے مشرق وسطیٰ کو سرسبز بنانے اور ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے اپنے غیرمعمولی منصوبے'گرین مڈل ایسٹ' پروجیکٹ پر خلیجی ممالک کی قیادت سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ انہوں‌نے خلیجی رہ نمائوں کو اپنے اس منصوبے کے اغراض ومقاصد کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ دوسری طرف خلیجی رہ نمائوں نے بھی سعودی ولی عہد کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے اتوار کے روز کویت کے امیر الشیخ نواف الاحمد الجابر الصباح سے 'سرسبز مشرق وسطی' اقدام کے حوالے سے بات چیت کی۔ سعودی ولی عہد کے اس منصوبے کے تحت آنے والے چند برسوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں 50 ارب درخت لگائے جائیں گے۔ معاصر تاریخ میں یہ سب سے بڑی شجری کاری مہم ہے۔ منصوبے کے تحت تیل کی پیداوار کے ساتھ ساتھ متبادل توانائی کے منصوبوں، آبی اور ساحلی ماحول کے تحفظ اور فطری حیات کے لیے محفوظ قرار دیے گئے مقامات کے تحفظ کا عزم کیا گیا ہے۔

دونوں رہ نمائوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں خطے اور پوری دنیا کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے عرب ممالک کی سطح پر اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ولی عہد نے معیاری زندگی بہتر بنانے اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری طرف امیر کویت نے 'سرسبز مشرق وسطی اقدام' پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کومبارک باد پیش کی۔

شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے مشرق وسطیٰ اقدام کے حوالے سے بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ اور قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ بحرین اور قطر کے فرمانروائوں سے بھی بات چیت میں 'سرسبز مشرق وسطیٰ' اقدام پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہفتے کے روز ماحول کی آلودگی کے عالمی مسئلے سے نمٹنے کے لیے سعودی سبزاقدام اور مشرق اوسط سبزاقدام کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ’’دنیا میں تیل کے سب سے بڑے پیداکنندہ ملک کی حیثیت سے ہم موسمیاتی بحران کے خلاف جنگ میں اپنی ذمے داریوں سے مکمل طور پرآگاہ ہیں۔تیل اور گیس کے دور میں ہم نے توانائی مارکیٹوں کے استحکام میں اساسی کردارادا کیا ہے۔ہم آیندہ گرین دور میں بھی اپنا قائدانہ کردارادا کرتے رہیں گے۔‘‘

انھوں نے ان نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب اور خطے کو بہت سے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ان میں بنجرپن خطے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے سبب ہوا کی آلودگی کے نتیجے میں شہریوں کی زندگی میں اوسطاً ڈیڑھ سال کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘
شہزادہ محمد بن سلمان نے بتایا ہے کہ ’’سعودی سبزاقدام کے تحت ہریالی کو بڑھانے ،کاربن کے اخراج میں کمی ،آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے،اراضی کو بنجرپن کا شکار ہونے سے بچانے اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘

’’ان دونوں اقدامات کے تحت مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ان میں سے ایک منصوبہ کے تحت آیندہ عشروں کے دوران میں سعودی عرب میں 10ارب درخت لگائے جائیں گے۔چار کروڑ ہیکٹربنجر اراضی کو بحال کیا جائے گا اور جنگلات کے رقبہ میں 12 گنا اضافہ کیا جائے گا۔‘‘

ولی عہد نے مزید بتایا کہ’’سعودی سبزاقدام کے تحت کاربن کے اخراج میں 4 فی صد کمی جائے گی۔اس مقصد کے لیے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر کام کیا جائے گا اور 2030ء تک ان منصوبوں سے سعودی عرب کی 50 فی صد بجلی پیدا کی جائے گی۔اس کے علاوہ صاف ہائیڈروکاربن ٹیکنالوجیز کے شعبے میں منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ان سے 13 کروڑ ٹن سے زیادہ کاربن کے اخراج کا خاتمہ ہوگا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ’’ماحول کے تحفظ میں سعودی عرب کے کردارکے عالمی سطح پر اثرات مرتب کرنے کے لیے ہم خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک اور خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر’مشرق اوسط سبز اقدام‘کو عملی جامہ پہنائیں گے۔اس کے تحت خطے کے ملکوں میں 40 ارب درخت لگائے جائیں گے۔