.

نہرسویزمیں پھنسے ’’ایورگی ون‘‘ مال بردارجہاز کو ہٹا دیا گیا، بحری ٹریفک بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں امدادی ٹیموں نے نہر سویز (السویس) کے کنارے میں پھنسے ہوئے بڑے مال بردار بحری جہاز کو ہٹا دیا ہے جس کے بعد یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہونے والی اس اہم آبی گذرگاہ سے قریباً ایک ہفتے کے بعد مال اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت بحال ہوگئی ہے۔

ایک سکائی کریپر کے سائز جتنا ’’ایورگی ون‘‘ بحری جہاز گذشتہ منگل سے نہرسویز کے ایک ریتلے کنارے میں پھنس کر رہ گیا تھا۔اس کے بعد دو سمندروں کو ملانے والی اس اہم آبی گذرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی تھی۔

یہ جہاز دو لاکھ 20 ہزار ٹن سامان سے لدا ہوا ہے۔امدادی ٹیم سوموار کی صبح سے کشتیوں کے ایک قافلے کی مدد سے اس کو گریٹ بِٹر لیک کی جانب دھکیل کر لے جارہی تھی۔یہ جھیل نہرسویز کے جنوبی اور شمالی کنارے کے درمیان میں واقع ہے۔اس کی مالک کمپنی ایورگرین کے مطابق وہاں اس مال بردار جہاز کا تیکنیکی معائنہ کیا جائے گا۔

میرین ٹریفک ڈاٹ کام کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے بھی اس امر کی تصدیق ہوئی ہے کہ جہاز کو کنارے سے نہر سویز کے وسط کی جانب لے جایا جارہا تھا۔

اس کنٹینر بردار جہاز کے پھنس جانے سے اس اہم آبی گذرگاہ میں بھاری ٹریفک جام ہوگیا تھا اور مختلف ملکوں کے جہاز نہرسویز کے دونوں جانب سمندر میں پھنس کررہ گئے ہیں اور روزانہ 9 ارب ڈالر مالیت کی عالمی تجارت معطل ہوکررہ گئی ہے۔اس سے کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ کا شکار رسدی زنجیر پرمزید بوجھ پڑا ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ نہرسویز سے مکمل ٹریفک کب بحال ہوگا۔اس وقت اس کے دونوں جانب 367 تیل اور مال بردار جہازگذرنے کے منتظر کھڑے ہیں۔ان پر خام تیل سے مویشیوں اورقدرتی مائع گیس تک اشیاء لدی ہوئی ہیں۔

ڈیٹا فرم ریفینٹیو کے اندازے کے مطابق سمندراور نہرسویز میں پھنسے ہوئے قطار درقطار جہازوں کو اپنی اپنی جائے منزل کی جانب روانگی میں کم سے کم دس روز لگ سکتے ہیں۔

دریں اثناء دسیوں مال بردار یا تیل بردار جہازوں نے اپنی اپنی منزل پرپہنچنے کے لیے براعظم افریقا کے جنوبی سرے میں واقع کیپ آف گڈہوپ کا متبادل روٹ اختیار کرلیا ہے۔نہرسویز کے مقابلے میں یہ آبی راستہ پانچ ہزارکلومیٹر طویل ہے۔اس سفر پر روانہ ہونے والے جہازوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں مزید دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔ نیزایندھن اور دوسرے اخراجات کی مد میں مزید لاکھوں ڈالر صرف کرنا پڑیں گے۔