.

نہر سویز میں بحری جہاز پھنسنے کی ذمہ داری اس کے کپتان پر عاید ہوتی ہے:مصری عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی نہر سویز کے منصوبوں کے لیے مصری صدر کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل مھاب ممیش نے اتوار کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "ایورگرین"بحری جہاز کے کے واقعے کی ذمہ داری سب سے پہلے اور سب سے اہم جہاز کے کپتان پر عائد ہوتی ہے۔

العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ گذشتہ 54 سال میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ ہوا تیزتھی جس کی وجہ سے جہاز بارہ گرہوں کی رفتار سے نہر کے کنارے کی طرف بڑھا۔ اس کی وجہ سے جہاز رانی کو بہت نقصان پہنچا اور نیویگیشن رک گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس بڑی صلاحیتیں ہیں۔ جہاز کا واقعہ ایک استثناء ہے۔ سویز نہر کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں کام کرنے والے عملے نے ہمیشہ ذمہ داری اور اہلیت کے ساتھ کام کیا ہے۔ تاہم اس واقعے میں جو بھی قصور وار ہوا اسے سزا دی جائے گی۔

مصری صدر کے مشیر نے کہا کہ حادثے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ مصر کی ذمہ داری نہیں ہے ، بلکہ جہاز اور اس کے مالک کی ذمہ داری ہے ، کیونکہ یہ حادثہ جہاز کے کپتان کی غلطی کا نتیجہ ہے نہ کہ کینال پر کام کرنے والے عملے کا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثے کے پہلے ہی لمحے نہر سویز سیل ہوگیہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نہر سویز میں پھنسے جہاز کو کل تک وہاں سے نکال دیا جائے گا۔

اتوار کے روز اس جہاز کو نکالنے کے لیے ہزاروں ٹن ریت کینال کے کنارے سے ہٹائی جاتی رہی اور اسے کھینچنے کے لیے بلند لہروں کے وقت 14 چھوٹی کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔

ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ اگر جہاز کو اس کے سامان سمیت نکالنا اور سیدھا کرنا مشکل ہے تو اسے خالی کرنے کی تیاریاں شروع کی جائیں۔

مصر کی نہر سویز اتھارٹی کے سربراہ اسامہ ربیع کا کہنا ہے کہ چھوٹی کشتیاں جہاز کو دونوں جانب سے تقریباً 30 ڈگری تک سرکانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل اسامہ ربیع نے ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا کہ پھنسے ہوئے جہاز کےاطراف میں نہر کھدائی کا کام تیز کردیا گیا ہے۔ جہاز کو جلد از جلد نکالنے کے لیے کام میں شدت لانے کا اعلان کیا۔ العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں‌نے کہا تھا کہ بہ ظاہر اس حادثے کی وجہ تیز ہوائیں بتائیں جاتی ہیں تاہم تکنیکی یا نسانی غلطی کےامکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔