.

اسرائیل نے کروناوَبا کے بعد پہلی مرتبہ مصر کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ کھول دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مصر کے شہر طابا کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ ایک سال کے بعد دوبارہ کھول دی ہے۔

اسرائیلی شہرایلات اور طابا کے درمیان واقع یہ سرحدی گذرگاہ کروناوائرس کی وبا کے دوران میں مسلسل بند رہی ہے۔اس کو اسرائیل نے آج پہلی مرتبہ محدود مدت کے لیے کھولا ہے تاکہ اسرائیلی شہری پاس اوور(عيدالفصح اليہود) کی تعطیلات گزارنے کے لیے جزیرہ نما سینا میں جا سکیں۔

اسرائیل نے حال ہی میں کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے عاید کردہ پابندیوں میں نرمی کردی ہے اور اب وہاں معمولات زندگی بتدریج بحال ہورہے ہیں۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی 93 لاکھ آبادی میں سے قریباً نصف کو کووِڈ-19 کی ویکسین لگائی جاچکی ہے۔وہ دنیا میں فی کس ویکسین لگانے کے اعتبار سے پہلے نمبرپرہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق منگل سے 12 اپریل تک روزانہ 300 اسرائیلیوں کو طابا سرحدی چوکی سے گذرنے کی اجازت ہوگی۔یہاں سے گذرنے والے ہرفردکے پاس کووِڈ-19 کا ٹیسٹ منفی ہونا چاہیے،اس نے ویکسین لگوا رکھی ہو یا وہ اگرکووِڈ-19 کا شکارہوا ہے تواس مرض سے صحت یاب ہوچکا ہے۔

مصرکےجزیرہ نما سیناء میں واقع طاباشہراسرائیلیوں کی پاس اوور(عيدالفصح اليہود) کی چھٹیاں گزارنے کے لیے ایک مقبول مقام ہے۔تاہم مارچ 2020ء میں طابا کی بندش کی وجہ سے وہ مصری علاقے میں نہیں آسکے تھے۔ایلات اور طابا کی بارڈرکراسنگ تب سے بند تھی۔

اسرائیل کی ویکسین لگانے کی مہم کے نتیجے میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔گذشتہ ماہ کے اختتام پرکروناوائرس کے تشویش ناک کیسوں کی تعداد 800 تھی، وہ اب کم ہوکر467 رہ گئی ہے۔