.

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں حوثی ملیشیا عدن ہوائی اڈے پر حملے کی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دسمبر 2020ء میں یمن میں عدن کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمے داری حوثی ملیشیا پر عائد کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثیوں نے عدن کے ہوائی اڈے کو تین بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

پیر کے روز جاری رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حوثیوں نے اس طیارے کو نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی جس میں یمنی حکومت کے ارکان سوار تھے۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے عدن کے ہوائی اڈے پر حملہ بین الاقوامی اور انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

نیویارک میں العربیہ کے نمائندے کے مطابق روس نے اس تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کی مخالفت کی تھی جس میں حوثیوں کو عدن کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

اس سے قبل پیر کے روز ہی دو با خبر سفارت کاروں نے انکشاف کیا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے مطابق یمن میں حوثیوں نے گذشتہ برس 30 دسمبر کو عدن کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا۔ یمنی حکومت کے ارکان کے عدن ہوائی اڈے پہنچنے پر کی جانے والی اس کارروائی میں کم از کم 22 افراد جاں بحق اور تقریبا 110 زخمی ہو گئے تھے۔ البتہ طیارے میں سوار تمام افراد محفوظ رہے۔ ان میں سرکاری ذمے داران ، میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد، ہوائی اڈے کے کارکنان اور وہ مسافر شامل ہیں جو قاہرہ کے لیے اپنی پرواز کا انتظار کر رہے تھے۔

ہوائی اڈے کو تین میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان میں پہلا میزائل ہوائی اڈے کے مرکزی ہال میں پھٹا، دوسرا میزائل ہوائی اڈے کے رن وے پر اور تیسرا میزائل اس جگہ پھٹا جہاں وزیر اعظم کی پریس کانفرنس منعقد ہونا تھی۔

یمنی وزیر اعظم معین عبد الملک نے الزام عائد کیا تھا کہ اس خونی حملے کے پیچھے حوثیوں کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب ایران کی حلیف حوثی ملیشیا نے حملے کا ذمے دار ہونے کی تردید کی۔