.

سعودی ولی عہد کا یمن کو 42 کروڑ ڈالر کا مفت تیل فراہم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کل منگل کے روز یمن کے صدر عبد ربہ منصور ھادی سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ گفتگو کے دوران ولی عہد نے یمنی حکومت کی ہرممکن مدد جاری رکھنے اور یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے میں آئینی حکومت کی معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقعے پر ولی عہد نے یمنی حکومت کو جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر کو کے پروگرام کے تحت 42 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت ک تیل فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

دونوں رہ نمائوں کےدرمیان ہونے والی بات چیت میں یمن کی موجودہ صورت حال، یمن کے بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کی طرف سے پیش کردہ امن منصوبے، تنازع کے سیاسی حل اور حوثی باغیوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یمنی صدر نے سعودی عرب کی طرف سے یمن بحران کےحل کے لیے پیش کردہ امن منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے یمن میں دیر پا امن کےقیام اور استحکام کے لیے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر خدمات انجام دیں ہیں۔

اس موقعے پر سعودی ولی عہد نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کو یقین دلایا کہ سعودی عرب یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے یمن کی آئینی حکومت کی ہرممکن مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے یمن کے تعمیر نو اور بحالی کے پروگرام کے تحت 422 ملین ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

یمنی صدر اور سعودی ولی عہد کےدرمیان ہونے والی بات چیت میں 'گرین مڈل ایسٹ' پروجیکٹ پربھی بات چیت کی گئی۔ یمنی صدر نے سعودی ولی عہد کے'سرسبز مشرق وسطیٰ' منصوبے کو سراہا اور اسے موجودہ ماحولیاتی بحران کے حل کے لیے بہترین کوشش قرار دیا۔