.

امریکا کی عراق کو ایران سے بجلی کے حصول کے لیے دی گئی مہلت میں 120 دن کی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکا نے عراق سے ایران کو بجلی کی درآمدات کے لیے 120 دن کی مزید چھوٹ دی ہے۔
جوبائیڈن انتظامیہ کے تحت اور قانون کے ذریعہ سب سے طویل عرصے تک یہ پہلی چھوٹ دی گئی ہے۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق اور امریکا کے مابین "اسٹریٹجک مکالمہ" جلد شروع ہو رہا ہے۔

اگرچہ عراق تیل پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن وہ توانائی کے میدان میں ایران پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ عراق اپنے خستہ حال انفراسٹرکچر کی وجہ سے گیس اور بجلی کی کھپت کی ایک تہائی ضروریات ایران سے درآمد کرتا ہے۔ چار کروڑ آبادی والے مُلک میں توانائی اور دیگر شعبوں میں خود کفالت میں ناکام رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں سابق امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور 2018 کے آخر میں دوبارہ پابندیاں عائد کردی گئیں۔ ان پابندیوں سے بہت سے ممالک اور بین الاقوامی کمپنیوں کو حکومت یا ایرانی کمپنیوں کے ساتھ معاملات کرنے سے روک دیا دیا گیا اور مختلف ممالک کی کمپنیوں نے پابندیوں کے خوف سے ایران کے ساتھ کام سے ہاتھ کھینچ لیا۔

جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے دی گئی نئی چھوٹ کے تحت عراق اپنے مشرقی ہمسایہ ملک سے چار ماہ یعنی اپریل کے شروع سے اگست کے اوائل تک بجلی اور گیس کی درآمد جاری رکھے گا۔