.

تیس سال سے گلاب کاشت کرنے والے سعودی کاشت کار سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موسم سرما کی سرد لہروں کی رخصتی اور موسم گرماں کے گرم جھونکوں کی آمد کے ساتھ ہی مشرقی سعودی عرب کے علاقے الاحسا کے باسی گلاب کے عطر بیز پھولوں کے باغات کا رخ کرتے اور پھول توڑ کرانہیں اپنے ذریعہ معاش کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ہم آپ کو الاحسا سے تعلق رکھنے والے پھول پرور 60 سالہ ابو جواد سے ملاقات کرا رہے ہیں جو اس نیم گرم موسم کی ٹھنڈی ٹھنڈی صبحوں کو طلوع آفتاب سے قبل اپنے باغات میں پہنچ کر پھول توڑنا شروع کردیتے ہیں۔ ابو جواد 30 سال سے اس پیشے اور مشغلے سے وابستہ ہیں اورانہوں‌نے اپنے فارم میں گلاب کے 7 ہزار سے زاید پودے کاشت کررکھے ہیں۔ ابو جواد کے باغ میں سب سے بڑی تعداد سرخ رنگ کے پھولوں کی ہوتی ہےجن کی بہت زیادہ طلب ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو جواد نے بتایا کہ وہ الاحسا میں پھولوں کی کاشت کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ شاید وہ اس گورنری کے واحد کسان ہیں جو اتنی بڑی تعداد میں بیش قیمت خوشبو دار لال رنگ کے کاشت کرتے انہیں فروخت کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے ابو جواد نے نہ صرف سرخ گلاب کی کاشت کو ایک پیشے کے طور پر اپنا رکھا ہے بلکہ انہوں‌نے ان پھولوں کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الاحسا کا سرخ گلاب آج تک اپنی آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ ان پھولوں کو عطر کشید کرنے کے علاوہ زیب وزینت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ علاقے کی بچیاں اور بڑی خواتین اپنے بالوں کو ان پھولوں سے سجاتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالعظیم ابو جواد نے کہا کہ وہ دن کا بیشتر حصہ گلاب کے ان پھولوں‌کے بیچ چلنے پھرنے میں گذارتے ہیں۔ وہ گذشتہ 33 سال سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ابو جواد کا کہنا تھا کہ دن کے وقت سیاح بھی اس کے فارم کی سیر کوآتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ نہ صرف پھول کاشت کرتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر پھولوں کا عرق بھی تیار کرتے ہیں۔