.

سعودی عرب میں بارشی کے پانی کو محفوظ بنانے اور جدید زرعی آلات کے استعمال کا پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت زراعت ، پانی و ماحولیات نے قومی تبدیلی کے پروگرام 'ویژن 2030' کے تحت کھیتوں کی بحالی کا ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔

'ایگری کلچر ٹیرسز' کی بحالی کے اس پروگرام کا مقصد مملکت کے جنوب مغربی علاقوں میں بارشوں کے پانی سے کو محفوظ کرنا اور اسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس منصوبے پر 60 کروڑ ریال کی لاگت آئے گی۔ پروگرام کے تحت سعودی عرب کے زرعی علاقوں بالخصوص الباحہ، عسیر، جازان اور طائف گورنری میں اوسطا 600 ایکڑ کے حساسب سے مجموعی طور پر 2500 ایکڑ رقبے پر موجود کھیتوں کے اطراف کو اونچا کرنے کے ساتھ ان کے ارد گرد پانی کی نالیاں تعمیر کی جائیں گی۔

اس حوالے سے وزارت زراعت کے مشیر ابراہیم عاف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد بارشوں کے پانی کو زرعی مقاصد کے لیے محفوظ کرنا اور اس سے استفادہ کرنا ہے۔ غذائی تحفظ اور اس کی ترقی کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہا کہ زرعی 'مدرجات' کی مرمت اور بحالی کے لیے بنیادی طور پرچار امور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس میں کاشت کاری کے لیے استعمال ہونے والی تکنیکس کا نفاذ، بارشوں کے پانی کو محفوظ کرنا، جدید آب پاشی نظام کو مربوط کرنا اور زرعی محاصیل کو ترقی دیتے ہوئے ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

ابراہیم عارف کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے نفاذ کے بعد پہلے مرحلے میں زرعی علاقوں کے 10 ہزار کاشت کار مستفی ہوں‌گے۔ دوسرے مرحلے میں مزید علاقوں کو شامل کرکے اس سے مستفید ہونے والے افراد کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔