.

سعودی عرب کے 'مرکز اعتدال' اور یو این انسداد دہشت گردی مرکز میں باہمی تعاون کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے انتہا پسندی کے خلاف اور اعتدال پسندی کے فروغ کے لیے قائم کردہ ادارے "اعتدال" نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز (یو این او سی ٹی) کے ساتھ باہمی تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس یادداشت کا مقصد دہشت گردی کی روک تھام اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون کو فروغ دینا اور انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو موثر طریقے سے لڑنا ہے۔

اس یادداشت پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل برائے انسداد دہشت گردی ولادیمر ورونکوف اور اعتدال مرکز کے سیکریٹری جنرل منصور الشمری نے دستخط کیے۔ اس موقعے پر اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبداللہ بن یحییٰ المعلمی بھی موجود تھے۔

اس معاہدے کا مقصد دونوں فریقوں کے مابین مشترکہ منصوبوں کا قیام بھی کرنا ہے تاکہ اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر عمل درآمد کی حمایت کی جاسکے تاکہ متشدد انتہا پسندی کی روک تھام اور انٹرنیٹ کے استعمال سے نمٹنے کے لئے اسٹریٹجک مواصلات کے میدان میں صلاحیتوں کو بڑھانے سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے تعاون کیا جاسکے۔ سعودی پریس ایجنسی، "ایس پی اے" کے مطابق دہشت گردی کے مقاصد کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو شامل کرنے، رواداری کو فروغ دینے اور دہشت گردی کے متاثرین کی مدد کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی مہمات بھی شروع کی جائیں گی۔

مفاہمتی یاداشت میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور اقوام متحدہ مل کر اپنا مشن جاری رکھیں گے اور اس میدان میں ہونے والی کاوشوں کو مجتمع کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں‌ گے۔ اس موقع پر المعلمی نے اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی مرکز کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے یادداشت پر دستخط کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مقابلے کی یادشت پر دستخط کرنا مملکت کی دہشت گردی کے خلاف کاوشوں کی عکاسی کرتا ہے۔