.

عراق: صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سربراہی کرنے والا جج کرونا کے سبب فوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں کرونا وائرس میں مبتلا ریٹائرڈ جج جسٹس محمد عریبی الخلیفہ کا انتقال ہو گیا۔ یاد رہے کہ الخلیفہ سابق عراقی صدر صدام حسین کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے سربراہ تھے۔

عراق میں سپریم جوڈیشل کونسل نے جمعے کے روز بتایا کہ 52 سالہ الخلیفہ بغداد کے ایک ہسپتال میں کووڈ-19 وائرس کے خلاف زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

الخلیفہ نے 1992ء میں بغداد یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انہیں 2000ء میں جج مقرر کیا گیا تھا۔

اگست 2004ء میں صدام حسین اور ان کی حکومت کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں بطور جج تقرر کے بعد الخلیفہ کو شہرت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے صدام حسین کے خلاف اجتماعی نسل کشی کے الزام کے تحت مقدمے میں سینئر جج کا منصب سنبھالا۔ اس مقدمے میں صدام حسین کے چچا زاد بھائی علی حسن المجید عُرف علی کیمیکل اور دیگر پانچ ملزمان بھی شامل تھے۔ ان سب پر 1987-88ء کے دوران میں کردوں کے خلاف خونی مہم میں کردار ادا کرنے کے الزامات تھے۔

استغاثہ کا دعوی تھا کہ اس مہم کے دوران میں 1.8 لاکھ کے قریب افراد مارے گے۔ ان میں بہت سے شہری بھی تھے جو زہریلی گیس سے ہلاک ہوئے۔ اس مقدمے کے نتیجے میں صدام حسین کو موت کی سزا سنائی گئی۔ اس فیصلے پر 30 دسمبر 2006ء کو عمل ہوا۔

الخلیفہ نے مقدمے کی کارروائی کے دوران میں کئی مرتبہ سابق صدر صدام کو کمرہ عدالت سے باہر بھی نکالا تھا۔ یہ اقدام صدام اور الخلیفہ کے درمیان سخت اور اشتعال انگیز الفاظ کے تبادلے کے بعد سامنے آتا تھا۔

ایک سماعت میں الخلیفہ نے حکم دیا کہ صدام کو کئی روز تک قید تنہائی میں رکھا جائے۔

عراقی جوڈیشل کونسل کے بیان میں الخلیفہ کی شخصیت کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے صدام حسین اور سابق حکومت کے خلاف مقدمے کی کارروائی میں دلیری کا مظاہرہ کیا۔