.

اردنی سینیٹ نے شاہ عبداللہ دوم کی حمایت کی توثیق کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے شاہ عبداللہ دوم کی حمایت کی توثیق کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ان کی حمایت ناگزیر ہے۔

سینیٹ کے اسپیکر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم اردن میں استحکام کے تحفظ کے لیے شاہ عبداللہ دوم کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔اردن ایک سُرخ لکیر ہے اور ہمارے شاہ بھی ایک سرخ لکیر ہیں۔‘‘انھوں نے اردنی عوام پر زوردیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہیں دھریں۔

بیان میں اردن کے سابق ولی عہد اور شاہ عبداللہ دوم کے سوتیلے بھائی شہزادہ حمزہ بن حسین کو باور کرایا گیاہے کہ وہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو ہدف بنانے والے اقدامات ترک کردیں۔

اردن میں سکیورٹی حکام نے گذشتہ روز سابق ولی عہد شہزادہ حمزہ کو حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں ان کے محل میں نظربند کردیا تھا اور شاہی دیوان کے سابق سربراہ اور سابق وزیرخزانہ باسم عوض اللہ سمیت بیس افراد کو گرفتارکرلیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملکی استحکام وسلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے،اس لیے انھیں حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان کے خلاف اب تحقیقات کی جائے گی۔

اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی بطرا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایک وسیع تر سکیورٹی تحقیقات کے ضمن میں یہ کارروائی کی گئی ہے۔اس میں ایک سابق وزیر، شاہی خاندان کے ایک فرد اور بعض دوسرے غیر شناختہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم بطرا نے بعض دوسرے میڈیا اداروں کی ان اطلاعات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ حمزہ کو گھر (محل) میں نظربند کردیا گیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ان پر فی الوقت کوئی پابندیاں عاید نہیں ہیں اور نہ وہ گھر پر نظربند ہیں۔

قبل ازیں اردن کے وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ حکومت ہفتے کے روز کارروائی میں کی جانے والی گرفتاریوں کے بارے میں اتوار کو ایک تفصیلی بیان جاری کرے گی۔